تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 209
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة الفاتحة الْمَوْتِ عَنِ الْخَلْقِ وَ عَنْ كُلِّ مَا هُوَ فِي | زمین کی سب چیزوں سے موت ( یعنی پوری لاتعلقی ) کی۔اسی الْأَرْضِينَ۔وَفِيْهَا حَقٌّ عَلَى اقرار و طرح ان (آیات ) میں اس امر کا اقرار اور اعتراف کرنے کی اعْتِرَافٍ بِأَنَّنَا الضُّعَفَاءِ لَا نَعْبُدُكَ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہم تو بہت کمزور ہیں۔تیری دی ہوئی إِلَّا بِكَ وَ لَا نَتَحَسَّسُ مِنْكَ إِلَّا توفیق کے بغیر تیری عبادت نہیں کر سکتے اور تیری مدد کے بغیر ہم يعونك۔يك نَعْمَلُ وَ بِك تتحرك و تیری رضا کی راہوں کی تلاش نہیں کر سکتے۔ہم تیری مدد سے إِلَيْكَ نَسْعَى كَالقَوَاكِلٍ مُتَعَزِقِيْنَ وَ کام کرتے ہیں اور تیری مدد سے حرکت کرتے ہیں اور ہم تیری كَالْعُشّاقِ مُتَلَظِيْنَ۔وَفِيهَا حَةٌ عَلَى طرف جلن کے ساتھ ان عورتوں کی طرح جو اپنے بچوں کی الْخُرُوجِ مِنَ الْاخْتِيَالِ وَ الزَّهْوِ و موت کے غم میں گھل رہی ہوتی ہیں اور ان عاشقوں کی طرح جو الْإِعْتِصَامِ بِقُوَّةِ اللهِ تَعَالی و محبت میں جل رہے ہوتے ہیں تیری طرف دوڑتے ہیں۔حَوْلِهِ عِندَ اعْتِيَاصِ الأمورو پھر ان آیات میں کبر اور غرور کو چھوڑنے کی نیز معاملات کے هجُوْمِ الْمُشْكِلاتِ وَالنُّحولِ پیچیدہ ہونے اور مشکلات کے گھیر لینے پر محض اللہ تعالیٰ کی في الْمُنْكَسِرِينَ۔كَأَنَّهُ تَعَالَى شَأْنُه (طرف سے ملنے والی ) طاقت اور قوت پر بھروسہ کرنے کی اور يَقُولُ يَا عِبَادِ احْسَبُوا أَنْفُسَكُمْ منکسر المزاج لوگوں میں شامل ہونے کی ترغیب ہے ) گویا ( كَالْمَيَّتِينَ وَبِاللهِ اعْتَضَدُوا كُلّ کہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اپنے آپ کو حِينٍ فَلَا يَزْدَهِ الشَّابُ مِنْكُمُ مُردوں کی طرح سمجھو اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل بِقُوَّتِهِ وَلَا يَتَخَضَرُ الشَّيْحُ بِهِرَاوَتِه کرو۔پس تم میں سے نہ کوئی جوان اپنی قوت پر اتر ائے اور نہ وَلا يَفْرَحُ الْكَيْسُ بِدَهَائِهِ وَلَا يَفقُ کوئی بوڑھا اپنی لاٹھی پر بھروسہ کرے اور نہ کوئی عظمندا اپنی عقل الْفَقِيهُ بِصِحَّةِ عِلْبِهِ وَجَوْدَةٍ فھیم و پر ناز کرے اور نہ کوئی فقیہ اپنے علم کی صحت اور اپنی سمجھ اور اپنی ذَكَائِهِ وَلَا يَتَكى الْمُلْهَمُ عَلَی الْهَامِهِ دانائی کی عمدگی ہی پر اعتبار کرے اور نہ کوئی ملہم اپنے الہام یا وَ كَشْفِهِ وَخُلُوصِ دُعَائِهِ فَإِنَّ الله اپنے کشف یا اپنی دعاؤں کے خلوص پر تکیہ کرے کیونکہ اللہ جو يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ وَيَطْرُدُ مَن يَشَاءُ وَ چاہتا ہے کرتا ہے جس کو چاہے دھتکار دیتا ہے اور جس کو چاہے يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي الْمَخْصُوصِينَ وَ اپنے خاص بندوں میں داخل کر لیتا ہے۔اور ايَّاكَ نَسْتَعِينُ في جُمْلَةِ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ إِشَارَةٌ إِلى میں نفسِ اتارہ کی شرانگیزی کی شدت کی طرف اشارہ ہے جو 66