تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 208
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة الفاتحة قَدَّمَ اللهُ عَزَوَجَلَّ قَوْلَهُ ايَّاكَ | اللہ تعالیٰ نے جملہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کو جملہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے 66 66 نَعْبُدُ عَلى قَوْلِهِ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" پہلے رکھا ہے اور اس میں (بندہ کے ) توفیق مانگنے سے بھی پہلے إِشَارَةً إِلى تَفَضُلَا تِهِ الرَّحْمَانِيَّةِ مِنْ اس ذات باری ) کی (صفت) رحمانیت کے فیوض کی طرف قَبْلِ الْإِسْتِعَانَةِ فَكَأَنَّ الْعَبْدَ يَشْكُرُ اشارہ ہے گویا کہ بندہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور کہتا ہے۔رَبَّهُ وَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنِّي أَشْكُرُكَ عَلى اے میرے پروردگار میں تیری ان نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتا نُعَمَائِكَ الَّتِي أَعْطَيْتَنِي مِن قَبْلِ ہوں جو تو نے میری دُعا، میری درخواست ، میرے عمل، میری دُعَائِ وَمَسْأَلَتِي وَ عَمَلِي وَ جَهْدِی و کوشش اور جو ( تیری ) اس ربوبیت اور رحمانیت سے جو سوال وَ اسْتِعَانَتِي بِالرُّبُوَبِيَّةِ وَ الرَّحْمَانِيَّةِ کرنے والوں کے سوال پر سبقت رکھتی ہے۔میری استعانت الَّتِي سَبَقَتْ سُؤْلَ السَّائِلِينَ ثُمَّ سے پیشتر تو نے مجھے عطا کر رکھی ہیں۔پھر میں تجھ سے ہی ( ہر قسم أَطْلُبُ مِنْكَ قُوَةً وَ صَلَاحًا وَ فَلَاحًا کی قوت ، راستی، خوشحالی اور کامیابی اور اُن مقاصد کے حاصل و فَوْزًا وَ مَقَاصِدَ الَّتِي لَا تُغطى إِلَّا ہونے کے لئے التجا کرتا ہوں جو درخواست کرنے ، مدد مانگنے اور بعد القلب والاستعانة والدُّعَاءِ دُعا کرنے پر ہی عطا کی جاتی ہیں اور تو بہترین عطا کرنے والا وَأَنتَ خَيْرُ الْمُعْطِينَ وَ في هذه ہے۔اور ان آیات میں ان نعمتوں پر شکر کرنے کی ترغیب ہے الْآيَاتِ حَتَّ عَلى شُكْرِ مَا تُغطى و جو تجھے دی جاتی ہیں اور جن چیزوں کی تجھے تمنا ہو ان کے لئے الدُّعَاءِ بِالصَّبْرِ فِيمَا تَتَمَى وَ فَرطِ صبر کے ساتھ دُعا کرنے اور کامل اور اعلیٰ چیزوں کی طرف شوق اللَّهَج إلى ما هُوَ أَنه وَأَعْلى لِتَكُونَ بڑھانے کی ترغیب ہے ) تا ئم بھی مستقل شکر کرنے والوں اور مِنَ الشَّاكِرِينَ الصَّابِرِين۔وفيها صبر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ۔پھر ان (آیات) میں ترغیب حَثُ عَلى نَفْيِ الْحَوْلِ وَ الْقُوَّةِ وَ دی گئی ہے۔بندے کے اپنی طرف ہمت اور قوت کی نسبت کی الاستطرَاحِ بَيْنَ يَدَى سُبحانه نفی کرنے کی اور (اس سے ) آس لگا کر اور امید رکھ کر ہمیشہ مُتَرَقِّبًا منتظرًا مديما للسوال و سوال، دُعا، عاجزی اور حمد کرتے ہوئے (اپنے آپ کو اللہ الدُّعَاءِ والتضرع والثَّنَاءِ وَ سبحانہ کے سامنے ڈال دینے کی اور خوف اور امید کے ساتھ الْاِفْتِقَارِ مَعَ الْخَوْفِ وَ الرِّجَاءِ اس شیر خوار بچہ کی مانند جو دایہ کی گود میں ہو ( اپنے آپ کو اللہ كَالطِفْلِ الرَّضِيع في يد الظن و تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی ترغیب ہے ) اور تمام مخلوق سے اور يَدِ ) (