تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 204

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة الفاتحة وہی عطا فرماتا ہے۔پھر فرمایا ہے کہ وہ رحمان ہے یعنی اعمال سے بھی پیشتر اس کی رحمتیں موجود ہیں۔پیدا ہونے سے پہلے ہی زمین، چاند، سورج، ہوا، پانی وغیرہ جس قدر اشیاء انسان کے لئے ضروری ہیں موجود ہوتی ہیں اور پھر وہ اللہ رحیم ہے۔یعنی کسی کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرتا بلکہ پاداش عمل دیتا ہے پھر ملِكِ يَوْمِ الدین ہے یعنی جزا وہی دیتا ہے اور وہی یوم الجزا کا مالک ہے۔اس قدر صفات اللہ کے بیان کے بعد اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دُعا کی تحریک کی ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے تو خواہ مخواہ روح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دُعا کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے اس لئے اس کے بعد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقیم کی ہدایت فرمائی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لئے دُعا کی بہت بڑی ضرورت ہے اسلئے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲، ۳) خدا کی اصلی اخلاقی صفات چارہی ہیں جو سورۃ فاتحہ میں مذکور ہیں۔(۱) رب العالمین۔سب کا پالنے والا (۲) رحمان۔بغیر عوض کسی خدمت کے خود بخو د رحمت کرنے والا (۳) رحیم۔کسی خدمت پر حق سے زیادہ انعام اکرام کرنے والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کرنے والا۔(۴) اپنے بندوں کی عدالت اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۴۷) کرنے والا۔عرش الہی کی حقیقت اور سورہ فاتحہ کے ذریعہ اس کے مخفی وجود کا ظہور خدا تعالیٰ اپنے تنزہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جب کہ اُس کی صفت تنڑہ اُس کی تمام صفات کو روپوش کر کے اُس کو وراء الوراء اور نہاں در نہاں کر دیتی ہے۔جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے تب خدا عقول انسانیہ سے بالا تر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اُس کو دریافت کر سکے تب اُس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔جودُ نیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں۔(۱) اول ربوبیت جس کے ذریعہ سے وہ انسان کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے (۲) دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اُس نے بغیر پاداش اعمال بیشمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اوّل تو صفت رحمائیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور