تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 199
۱۹۹ سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم میں یہ تعلیم بیان فرمائی ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ DOWNLOAD جس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ جل شانہ تمام عالموں کا رب ہے یعنی علت العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے۔دوسری یہ کہ وہ رحمان بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے مقاصد کو کمال تک پہنچاتا ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اس کے ہاتھ میں ہے جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزا دیوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسر کرے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۶،۱۲۵) اس (اللہ تعالی) کے صفاتی نام جو اصل الاصول تمام صفاتی ناموں کے ہیں چار ہیں اور چاروں مجود اور کرم پر مشتمل ہیں۔یعنی وہی نام جو سورہ فاتحہ کی پہلی تین آیتوں میں مذکور ہیں یعنی رب العالمین اور رحمان اور رحیم اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی مالک یوم جزا۔ان ہر چہار صفات میں خدائے تعالی کی طرف سے انسانوں کے لئے سراسر نیکی کا ارادہ کیا گیا ہے۔یعنی پیدا کرنا پرورش کرنا جس کا نام ربوبیت ہے اور بے استحقاق آرام کے اسباب مہیا کرنا جس کا نام رحمانیت ہے۔اور تقویٰ اور خدا ترسی اور ایمان پر انسان کے لئے وہ اسباب مہیا کرنا جو آئندہ دیکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھیں جس کا نام رحیمیت ہے۔اور اعمال صالحہ کے بجالانے پر جو عبادت اور صوم اور صلوۃ اور بنی نوع کی ہمدردی اور صدقہ اور ایثار وغیرہ ہے وہ مقام صالح عطا کرنا جو دائمی سرور اور راحت اور خوشحالی کا مقام ہے جس کا نام جزاء خیر از طرف مالک یوم الجزاء ہے۔سو خدا نے ان ہر چہار صفات میں سے کسی صفت میں بھی انسان کے لئے بدی کا ارادہ نہیں کیا سراسر خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے لیکن جو شخص اپنی بدکاریوں اور بے اعتدالیوں سے ان صفات کے پر ٹوہ کے نیچے سے اپنے تیں باہر کرے اور فطرت کو بدل ڈالے اس کے حق میں اس کی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صفات بجائے خیر کے شر کا حکم پیدا کر لیتے ہیں چنانچہ ربوبیت کا ارادہ فنا اور اعدام کے ارادہ کے ساتھ مبدل ہو جاتا ہے اور رحمانیت کا ارادہ غضب اور شخط کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور رحیمیت کا ارادہ انتظام اور سخت گیری کے رنگ میں جوش مارتا ہے اور جزاء خیر کا ارادہ سزا اور تعذیب کی صورت میں اپنا ہولناک چہرہ دکھاتا ہے۔سو یہ تبدیلی خدا کی صفات میں انسان کی اپنی حالت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔غرض چونکہ سزا دینا یا سزا کا وعدہ کرنا خدائے تعالیٰ کی ان صفات میں داخل نہیں جو اُم الصفات ہیں کیونکہ دراصل اس نے انسان کے لئے نیکی کا ارادہ کیا ہے اس لئے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے