تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 198
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۸ سورة الفاتحة کے رحمت کرتا ہے پھر وہ الرّحِیمِ ہے یعنی اس کی رحمت ایسی ہے کہ کوشش پر بھی ثمرات مرتب کرتا ہے۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے جزا وسزا اس کے ہاتھ میں ہے ان تعریفوں سے لازم آیا کہ بڑا خدا جورب رحمن رحیم ہے وہ حاضر ناظر ہے اس لئے اب دُعا کے وقت یہ کہا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پھر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعامانگے۔سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی جن پر تیرے انعام واکرام ہوئے گو یا جو تیری مقبول راہ ہے اور جس پر چل کر تیرے تلطف کا یقین ہے ان لوگوں کی نہیں جن پر کوئی فیض اور فضل مرتب نہیں ہوتا بلکہ مغضوب بنادیتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) احکام الہی کی دوشاخیں عبادت اور احکام الہی کی دو شاخیں ہیں۔تعظیم لامر اللہ اور ہمدردی مخلوق۔میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے مگر سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے۔میں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے۔یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو رب العالمین ہے یعنی ہر عالم میں، نطفہ میں، مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا رب ہے پھر رحمان ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔اب اس کے بعد ایاک نعبد جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت یوم الدین کے صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہئے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تخلقوا بأخلاق اللہ میں رنگین ہو جاوے پس اس صورت میں یہ دونوں امر بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۹ مؤرخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۳) محبت کی محترک دو ہی چیزیں ہیں حسن یا احسان اور خدا تعالیٰ کی احسانی صفات کا خلاصہ سورہ فاتحہ میں پایا جاتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کيونکہ ظاہر ہے کہ احسان کامل اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو محض نابود سے پیدا کرے اور پھر ہمیشہ اس کی ربوبیت ان کے شاملِ حال ہو اور وہی ہر ایک چیز کا آپ سہارا ہو اور پھر اس کی تمام قسم کی رحمتیں اس کے بندوں کے لئے ظہور میں آئی ہوں اور اس کا احسان بے انتہا ہو۔جس کا کوئی شمار نہ کر سکے۔سوایسے احسانوں کو خدا تعالیٰ نے بار بار جتلایا ہے۔جیسا کہ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَ اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهیم: ۳۵) یعنی اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز گن نہ سکو گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۷، ۴۱۸)