تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 191

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩١ سورة الفاتحة پس یہ اعتراض کہ جو آریہ صاحبان ہمیشہ سے کرتے ہیں یہ تو درحقیقت ان کے ویدوں پر اعتراض ہے کیونکہ مسلمان تو اس خدا کی پرستش کرتے ہیں جو مخدوم ہے مگر آریہ صاحبان ان جھوٹے دیوتاؤں کو خدا سمجھ رہے ہیں جو خادموں اور نوکروں چاکروں کی طرح خدا تعالیٰ کی صفات اربعہ کا عرش اپنے سر پر اٹھارہے ہیں بلکہ وہ تو چاکروں کے بھی چاکر ہیں کیونکہ ان پر اور طاقتیں بھی مسلط ہیں جو ملائک کے نام سے موسوم ہیں جو ان دیوتاؤں کی طاقتوں کو قائم رکھتے ہیں جن میں سے زبانِ شرع میں کسی کو جبرئیل کہتے ہیں اور کسی کو میکائیل اور کسی کو عزرائیل اور کسی کو اسرافیل اور سناتن دھرم والے اس قسم کے ملائک کے بھی قائل ہیں اور ان کا نام حجم رکھتے ہیں۔(نسیم دعوت ،روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵۵ تا۴۶۰ حاشیه ) آنحضرت سالی یا سیستم صفات الہی کا مظہر ہیں میں نے سورۃ الفاتحہ ( جس کو اُٹھ الکتاب اور مثانی بھی کہتے ہیں اور جو قرآن شریف کی عکسی تصویر اور خلاصہ ہے ) کے صفات اربعہ میں دکھانا چاہا ہے کہ وہ چاروں نمونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ان صفات اربعہ کا نمونہ دکھا یا۔گویا وہ صفات دعویٰ تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بطور دلیل کے ہے۔چنانچہ ربوبیت کا آپ کے وجود میں کیسا ثبوت دیا کہ مکہ کے جنگلوں کا سرگردان اور دس برس تک حیران پھرنے والا جس کے لئے کوئی راہ کھلی نظر نہ آتی تھی ، اس کی تربیت کا کس کو خیال تھا ؟ کہ اسلام روئے زمین پر پھیل جاوے گا اور اس کے ماننے والے ۹۰ کروڑ تک پہنچیں گے۔مگر آج دیکھو کہ دنیا کا کوئی آباد قطعہ ایسا نہیں جہاں مسلمان نہیں۔پھر الرّحمٰن کی صفت کو دیکھو جس کا منشاء یہ ہے کہ عمل کے بدوں کامیابی اور ضرورتوں کے سامان بہم پہنچائے۔کیسی رحمانیت تھی کہ آپ کے آنے سے پیشتر ہی استعداد میں پیدا کر دیں۔عمر رضی اللہ عنہ بچوں کی طرح کھیلتا تھا۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو کافروں کے گھر میں پیدا ہوا تھا۔اور ایسا ہی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ ہو گئے۔گویا ان کو آپ کے لئے رحمانیت الہی نے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا اور اس قدر امور رحمانیت کے اسلام کے ساتھ ہیں کہ ہم ان کو مفصل بیان بھی نہیں کر سکتے۔امیت رحمانیت کو چاہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا (الجمعة: ۳) - رحمانیت کا منشا اس ضرب المثل سے خوب ظاہر ہے : کر دے کرا دے اور اُٹھانے والا ساتھ دے۔“