تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 190

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ سورة الفاتحة لکھ چکے ہیں کہ ربّ کے معنے دیوتا ہے۔پس قرآن شریف پہلے اسی سورۃ سے شروع ہوا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رب العلمین یعنی وہ تمام مہما اور اُستت اُس خدا کی چاہئے جو تمام عالموں کا دیوتا ہے۔وہی ہے جو ربُّ العلمین ہے اور رحمن العلمین ہے اور رَحِيمُ العلمین ہے۔اور مالك جزاء العالمین ہے۔اس کے برابر اور کوئی دیوتا نہیں کیونکہ قرآن شریف کے زمانہ میں دیوتا پرستی بہت شائع تھی اور یونانی ہر ایک دیوتے کا نام ربُّ النوع رکھتے تھے اور ربُّ النّوع کا لفظ آریہ ورت میں دیوتا کے نام سے موسوم تھا اس لئے پہلے خدا کا کلام ان جھوٹے دیوتاؤں کی طرف ہی متوجہ ہوا جیسا کہ اس نے فرمایا۔الْحَمْدُ للهِ رَبّ العلمین یعنی وہ جو سب عالموں کا دیوتا ہے نہ صرف ایک یا دو عالم کا اسی کی پرستش اور حمد و ثنا چاہئے۔دوسروں کی مہما اور اُستت کرنا غلطی ہے۔اس صورت میں جو صفتیں بت پرستوں نے چار دیوتاؤں کے لئے مقرر کر رکھی تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان سب کو اپنی ذات میں جمع کر دیا ہے اور صرف اپنی ذات کو ان صفات کا منبع ظاہر فرمایا بت پرست قدیم سے یہ بھی خیال کرتے تھے کہ خدا کی اصولی صفات یعنی جو اصل جڑ تمام صفات کی ہیں وہ صرف چار ہیں۔پیدا کرنا پھر مناسب حال سامان عطا کرنا۔پھر ترقی کے لئے عمل کرنے والوں کی مدد کرنا پھر آخر میں جزا سزا دینا اور وہ ان چار صفات کو چار دیوتاؤں کی طرف منسوب کرتے تھے۔اسی بنا پر نوح کی قوم کے بھی چار ہی دیوتا تھے اور انہیں صفات کے لحاظ سے عرب کے بت پرستوں نے بھی لات۔منات و عزمی اور سہل بنارکھے تھے۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چار دیوتا بالا رادہ دنیا میں اپنے اپنے رنگوں میں پرورش کر رہے ہیں اور ہمارے شفیع ہیں اور ہمیں خدا تک بھی یہی پہنچاتے ہیں۔چنانچہ یہ مطلب آیت لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلفی (الزمر: ۴) سے ظاہر ہے۔اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں وید بھی ان چاروں دیوتاؤں کی مہما اور اُستت کی ترغیب دیتا ہے اور وید میں اگر چہ اور دیوتاؤں کا بھی ذکر ہے لیکن اصولی دیوتے جن سے اور سب دیوتے پیدا ہوئے ہیں یا یوں کہو کہ ان کی شاخ ہیں وہ چارہی ہیں کیونکہ کام بھی چار ہی ہیں۔پس قرآن شریف کی پہلی غرض یہی تھی کہ وید وغیرہ مذاہب کے دیوتاؤں کو نیست و نابود کرے اور ظاہر کرے کہ یہ لوگوں کی غلطیاں ہیں کہ اور اور چیزوں کو دیوتا یعنی رَبُّ النوع بنا رکھا تھا بلکہ یہ چار صفتیں خاص خدا تعالیٰ کی ہیں اور ان چار صفتوں کے عرش کو خادموں اور نوکروں کی طرح یہ بیجان دیوتے اُٹھا رہے ہیں چنا نچہ کسی نے کہا ہے " حمد را با تو نسبتی است درست بر در هر که رفت بردر تست