تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 189

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة الفاتحة لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مرتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فعل اللہ تعالیٰ کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں۔پس یہ چار صفتیں خدا تعالیٰ کی پوری صورت دکھلاتی ہیں سو در حقیقت استوا علی العرش کے یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آ گئیں تو خدا تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر تجلتی ہو گئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ایک طرف شاہی ضرورتوں کے لئے طرح طرح کے سامان طیار ہونے کا حکم ہوتا ہے اور وہ فی الفور ہو جاتے ہیں اور وہی حقیقت ربوبیت عامہ ہیں۔دوسری طرف خسروانہ فیض سے بغیر کسی عمل کے حاضرین کو جو دو سخاوت سے مالا مال کیا جاتا ہے۔تیسری طرف جو لوگ خدمت کر رہے ہیں ان کو مناسب چیزوں سے اپنی خدمات کے انجام کے لئے مدددی جاتی ہے۔چوتھی طرف جزا سزا کا دروازہ کھولا جاتا ہے کسی کی گردن ماری جاتی ہے اور کوئی آزاد کیا جاتا ہے۔یہ چار صفتیں تخت نشینی کے ہمیشہ لازم حال ہوتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ کا ان ہر چہار صفتوں کو دنیا پر نافذ کرنا گویا تخت پر بیٹھنا ہے جس کا نام عرش ہے۔اب رہی یہ بات کہ اس کے کیا معنی ہیں کہ اس تخت کو چار فرشتے اُٹھا رہے ہیں۔پس اس کا یہی جواب ہے کہ ان چار صفتوں پر چار فرشتے مؤکل ہیں جو دنیا پر یہ صفات خدا تعالیٰ کی ظاہر کرتے ہیں اور ان کے ماتحت چارستارے ہیں جو چار ربُّ النّوع کہلاتے ہیں جن کو وید میں دیوتا کے نام سے پکارا گیا ہے۔پس وہ ان چاروں صفتوں کی حقیقت کو دنیا میں پھیلاتے ہیں گویا اس روحانی تخت کو اٹھا رہے ہیں۔بت پرستوں کا جیسا کہ وید سے ظاہر ہے صاف طور پر یہ خیال تھا کہ یہ چار صفتیں مستقل طور پر دیوتاؤں کو حاصل ہیں۔اسی وجہ سے وید میں جابجا ان کی اسنت اور مہما کی گئی اور ان سے مرادیں مانگی گئیں۔پس خدا تعالیٰ نے استعارہ کے طور پر سمجھایا کہ یہ چار دیوتا جن کو بت پرست اپنا معبود قرار دیتے ہیں یہ مخدوم نہیں ہیں بلکہ یہ چاروں خادم ہیں اور خدا تعالیٰ کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی خادموں کی طرح ان الہی صفات کو اپنے آئینوں میں ظاہر کر رہے ہیں اور عرش سے مراد لوازم صفات تخت نشینی ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بیان کر دیا ہے۔ہم ابھی