تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 185

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة الفاتحة (ترجمه از مرتب) الْمَسِيحِ الْحَكَمِ مِنَ اللهِ أَحْكَمِ مسیح کا زمانہ ہے جو خدائے احکم الحاکمین کی طرف سے حکم الْحَاكِمِينَ۔وَ أَنَّهُ حَشْرُ بَعْدَ هَلَاكِ ہے اور لوگوں کی ہلاکت (روحانی) کے بعد ایک حشر کا وقت النَّاسِ وَقَد مَضَى نَمُوذَجه في زمن ہے۔اور اس کا نمونہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اور عِيسَى وَزَمَنِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی گذر چکا فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُن مِنَ الْغَافِلِينَ۔ہے۔پس تم بھی غور کرو اور غافلوں ( کی صف ) میں شامل نہ ہو۔اعجاز امسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۴۰ تا ۱۶۴) قرآن کریم نے جو سورہ فاتحہ کو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اسماء سے شروع کیا تو اس میں کیا راز تھا؟ چونکہ بعض تو میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پھر اس کی صفات رہے۔رحیم - مُلِكِ يَوْمِ الدین سے منکر تھیں اس لئے اس طرز کو لیا۔یہ یا درکھو کہ جس نے قرآن کریم کے الفاظ اور فقرات کو جو قانونی ہیں ہاتھ میں نہیں لیا اُس نے قرآن کا قدر نہیں سمجھا۔(الحکم جلد ۴ نمبر ۴۰ مؤرخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۰ صفحه ۴) سورۃ الفاتحہ میں جو خدا تعالیٰ کی یہ چار صفات بیان ہوئی ہیں کہ رَبُّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ اگر چہ عام طور پر یہ صفات اس عالم پر تحجتی کرتی ہیں لیکن ان کے اندر حقیقت میں پیشگوئیاں ہیں جن پر کہ لوگ بہت کم توجہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں صفتوں کا نمونہ دکھایا کیونکہ کوئی حقیقت بغیر نمونہ کے سمجھ میں نہیں آ سکتی۔رب العالمین کی صفت نے کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں نمونہ دکھایا آپ نے عین ضعف میں پرورش پائی کوئی موقع مدرسہ مکتب نہ تھا جہاں آپ اپنے روحانی اور دینی قومی کونشو ونما دے سکتے۔کبھی کسی تعلیم یافتہ قوم سے ملنے کا موقع ہی نہ ملا۔نہ کسی موٹی سوٹی تعلیم کا ہی موقع پایا اور نہ فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کے حاصل کرنے کی فرصت ملی۔پھر دیکھو کہ باوجود ایسے مواقع کے نہ ملنے کے قرآن شریف ایک ایسی نعمت آپ کو دی گئی جس کے علوم عالیہ اور حقہ کے سامنے کسی اور علم کی ہستی ہی کچھ نہیں جو انسان ذراسی سمجھ اور فکر کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھے گا اُس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کے تمام فلسفے اور علوم اس کے سامنے بیچ ہیں اور سب حکیم اور فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مؤرخه ۱/۱۷اپریل ۱۹۰۰ء صفحه ۳) سورہ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رَبِّ العلمین ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھی مظہر ہوئے جب