تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 184

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة الفاتحة الْبِحَارُ۔وَجُدِدَتِ الْمَرَاكِبُ وَعُطِلَتِ | خشک کر دیئے گئے ہیں۔نئی نئی سواریاں نکل آئی ہیں اور الْعِشَارُ وَإِنَّ السَّابِقِینَ مَا رَأَوْا كَمِثْلِ اونٹنیاں بیکار ہو گئی ہیں۔ہمارے پہلوں نے ایسی نعمتیں مَا رَأَيْنَا مِنَ النَّعْمَاءِ وَفي كُلِ قَدَمٍ نِعْمَةٌ نہیں دیکھی تھیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔ہر قدم پر ایک - پرا وَقَد خَرَجَتْ مِنَ الْإِحْصَاءِ - وَمَعَ ذَالِكَ (نئی ) نعمت (موجود ) ہے اور یہ ( نعمتیں) حد شمار سے كَثُرَتْ مَوْتُ الْقُلُوبِ وَقَسَاوَةُ الْأَفْئِدَةِ باہر ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دلوں کی موت اور ان کی سختی كَانَ النَّاسَ كُلَّهُمْ مَّاتُوا وَلَمْ يَبْقَ فِيهِم بہت بڑھ گئی ہے گویا کہ تمام لوگ مر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رُوحُ الْمَعْرِفَةِ إِلَّا قَلِيلُ الَّذِي هُوَ کی شناخت کرنے کی روح ان میں باقی نہیں رہی سوائے كَالْمَعْدُومِ مِنَ التَّدْرَةِ وَ إِنَّا فَهِمْنا بما بہت کم لوگوں کے جو شاذ و نادر ہونے کی وجہ سے نہ ہونے ذَكَرْنَا مِن ظُهُورِ الصَّفَاتِ وتجلی کے برابر ہیں پس ان صفات کے ظہور سے جن کا ذکر ہم الرُّبُوبِيَّةِ وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ كَمِثْلِ پہلے کر چکے ہیں اور ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت کی الْآيَاتِ ثُمَّ مِن كَثْرَةِ الْأَمْوَاتِ وَمَوْتِ روشن نشانوں کی طرح تجلی سے اور پھر کثرت اموات اور النَّاسِ مِنْ سَمِ الضَّلالات آن يَوْمَ گمراہیوں کے زہر سے لوگوں کے مرنے سے ہم نے الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ قَرِيبٌ بَلْ عَلَى الْبَابِ جان لیا ہے کہ حشر و نشر کا دن قریب ہے بلکہ دروازے پر كَمَا هُوَ ظَاهِرٌ مِن ظُهُورِ الْعَلَامَاتِ وَ ہے جیسا کہ ان علامات اور اسباب کے ظہور سے واضح ہو الْأَسْبَابِ فَإِنَّ الرُّبُوْبِيَّةَ وَالرَّحْمَانِيَّةَ وَ گیا ہے کہ کیونکہ ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت سمندروں الرَّحِيمِيَّةَ تَمَوجَت كَتَمَوجِ الْبِحَارِ کے جوش مارنے کی طرح موجزن ہیں اور ظاہر ہو چکی ہیں وَظَهَرَتْ وَ تَوَاتَّرَتْ وَجَرَتْ كَالأَنْهَارِ اور پے در پے نازل ہورہی ہیں اور دریاؤں کی طرح فَلَا شَكَ أَنَّ وَقْتَ الْحَشْيرِ وَالنُّشُورِ قَد جاری ہیں۔لہذا بلا شبہ اب حشر و نشر کا وقت آ گیا ہے۔یہ أَثى وَقَد مَضَتْ هذهِ السُّنَّةُ فِي صَحَابَةِ خَيْر سنت اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ( کے وقت ) الْوَرى وَلَا شَكَ أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ میں بھی ہو گزری ہے۔پس بلا شبہ یہ زمانہ یوم الدین ہے الدِّينِ۔وَيَوْمُ الْحَشْيرِ وَيَوْمُ مَالِكِيَّةِ رَبِّ يوم حشر ہے۔آسمانوں کے رب کی مالکنیت اور اس السَّمَاءِ وَظُهُورِ أَثَارِهَا عَلى قُلُوبِ أَهْلِ ( مالکیت) کے آثار اہل زمین کے دلوں پر ظاہر ہونے کا الْأَرْضِينَ وَلَا شَكَ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ دن ہے اور ( اس امر میں بھی ) کوئی شک نہیں یہ زمانہ اس