تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 183
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ سورة الفاتحة الْمَسَاجِدُ وَ حُفظ السَّاجِدُ وَفُتِحَ | کی حفاظت کی گئی ہے اور امن اور دعوت وتبلیغ کے دروازے أَبْوَابُ الْأَمْنِ وَالتَّبْلِيغِ وَالدَّعْوَةِ۔وَمَا کھل گئے ہیں اور یہ سب رحیمیت ہی کا فیضان ہے۔پس ہم هُوَ إِلَّا فَيْضُ الرَّحِيمِيَّةِ فَوَجَبَ عَلَيْنَا پر واجب ہے کہ ہم گواہی دیں کہ یہ وہ وسائل و ذرائع ہیں أَن نَّشْهَدَ أَتَهَا وَسَائِلُ لَا يُوجَدُ نَظِيرُهَا جن کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں ملتی اور یہ ایسی توفیق اور فِي الْقُرُونِ الْأُولَى وَ أَنَّهُ تَوْفِيقُ و آسانی میسر آ گئی ہے جس کی نظیر نہ کبھی کانوں نے سُنی اور نہ تَيْسِيرٌ مَّا سَمِعَ نَظِيرَة أُذُنٌ و ما رأی ہی اس کا نمونہ آنکھوں نے کبھی دیکھا پس تم ہمارے ربّ مِثْلَهُ بَصَرُ فَانْظُرُ إِلى رَحِيْمِيَّةِ رَبَّنَا اعلیٰ کی رحیمیت ) کی شان ) ملاحظہ کرو۔یہ اسی کی رحیمیت الْأَعْلى وَمِن رَحِيْمِيَّتِهِ أنا قند کا عَلى ( کی ہی برکت) ہے کہ ہمارے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ چند أَن نَّطْبَعَ كُتُبَ دِينِنَا في أَيَّام ما كان دنوں میں ہی اپنے مذہب کی اس قدر کتا ہیں طبع کر دیں جو مِنْ قَبْلُ في وُسُعِ الْأَوَّلِينَ أَن يَكْتُبُوهَا اس سے قبل ہمارے بزرگ ( کئی ) سالوں میں بھی نہیں لکھ في أَعْوَامٍ وَإِنَّا نَقْدِرُ عَلى أَن تطلع على سکتے تھے۔اور اب ہمیں یہ بھی مقدرت ہے کہ ہم دور دور أَخْبَارِ أَقْصَى الْأَرْضِ فِي سَاعَاتٍ * ؤ کے ملکوں کی خبریں (چند گھنٹوں میں معلوم کرلیں جن کا۔مَا قَدَرَ عَلَيْهِ السَّابِقُونَ إِلَّا لِشق ** حصول ہم سے پہلے لوگوں کے لئے سالہا سال تک اپنی الْأَنْفُسِ وَبَذْلِ الْجُهْدِ إِلى سَنَوَاتٍ وَقَد جانوں کو مشقت میں ڈالنے اور بڑی کوشش کے بغیر ممکن نہیں فُتِحَ عَلَيْنَا فِي كُلِّ خَيْرٍ أَبْوَابُ الرُّبُوَبِيَّةِ ہو سکا۔یقیناً ہر بھلائی کے ( حاصل کرنے کے لئے ) ہم پر وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ وَ كَثُرت ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت کے دروازے کھل گئے ہیں طرُقُهَا حَتَّى خَرَجَ إِحْصَانُهَا مِن الطاقة اور اس کے لئے اس قدر زیادہ راستے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان الْبَشَرِيَّةِ وَأَيْنَ تَيَسَّرَ هُذَا لِلسَّابِقِيْنَ کا شمار انسانی طاقت سے باہر ہے۔پہلے دعوت وتبلیغ کرنے مِنْ أَهْلِ التَّبْلِيغِ وَالدَّعْوَةِ وَ أَنَّ والوں کو یہ ( آسانیاں ) کہاں میسر تھیں؟ پس زمین ہماری الْأَرْضَ زُلْزِلَتْ لَنَا زِلْزَالًا فَأَخْرَجَتْ خاطر خوب جھنجھوڑی گئی ہے اور اس نے اپنے بوجھ ( یعنی أَثْقَالًا وَ فُجَرَتِ الْأَنْهَارُ وَ سُجّرَتِ خزانے باہر نکال پھینکے ہیں۔نہریں جاری کی گئی ہیں۔دریا ) الحاشية۔كما قال الله تعالى يَوْمَن تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا (الزلزال: ۵) - منه ( ترجمہ: جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔يَوْمَن تُحَيثُ أَخْبَارَهَا یعنی اس دن وہ (زمین) اپنی (ساری ہی پوشیدہ ) خبر میں بیان کر دے گی۔) ** سہو کتابت ہے درست بشق الانفس ہے ( ناشر )