تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 170

۱۷۰ سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خوشحالی اور لذت دائگی کا فیضان کرے گا۔جس لذت کاملہ کو سعید لوگ نہ صرف باطنی طور پر بلکہ صور مشہودہ اور محسوسہ میں بھی مشاہدہ کریں گے اور قومی انسانیہ میں سے کوئی قوت ظاہری ہو یا باطنی اپنے مناسب حال لذت اٹھانے سے محروم نہیں رہے گی اور جسم اور جان دونوں راحت یا عذاب اخروی میں یعنی جیسی کہ صورت ہوشریک ہو جائیں گے۔غرض برہمو سماج والوں کا اعتقاد بالکل اس صداقت کے برخلاف اور اس کے مفہوم کامل کے منافی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی کو ر باطنی سے نجات اُخروی کے جسمانی سامان کو کہ جو ظاہری قوتوں کے مناسب حال سعادت عظمی کی تکمیل کے لئے قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح عذاب اُخروی کے جسمانی سامان کو کہ جو ظاہری قوتوں کے مناسب حال شقاوت عظمی کی تکمیل کے لئے فرقان مجید میں مندرج ہے مورد اعتراض سمجھتے ہیں مگر ایسی سمجھ پر پتھر پڑیں کہ جو ایک بدیہی اور کامل صداقت کو عیب کی صورت میں تصور کیا جائے۔افسوس یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ سعادت عظمی یا شقاوت عظمی کے پانے کے لئے یہی ایک طریق ہے کہ خدائے تعالیٰ توجہ خاص فرما کر امر مکافات کو کامل طور پر نازل کرے اور کامل طور پر نازل ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ مکافات تمام ظاہر و باطن پر مستولی ہو جائے اور کوئی ایسی ظاہری یا باطنی قوت باقی نہ رہے جس کو اس مکافات سے حصہ نہ پہنچا ہو یہ وہی مکافاتِ عظیمہ کا انتہائی مرتبہ ہے جس کو فرقان مجید نے دوسرے لفظوں میں بہشت اور دوزخ کے نام سے تعبیر کیا ہے اور اپنی کامل اور روشن کتاب میں بتلا دیا ہے کہ وہ بہشت اور دوزخ روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مکافات پر کامل طور پر مشتمل ہے اور ان دونوں قسموں کو کتاب ممدوح میں مفصل طور پر بیان فرما دیا ہے اور سعادت عظمی اور شقاوت عظمی کی حقیقت کو بخوبی کھول دیا ہے۔مگر جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اس صداقت قصوئی اور نیز دوسری گزشتہ بالا صداقتوں سے برہمو سماج والے نا آشنا محض ہیں۔(براہین احمدیہ چہار قصص روحانی خزائن جلد اصفحہ ۴۵۷ تا ۵۲۴ حاشیه ۱۱) ثُمَّ إِنَّ فَيْضَ الرُّبُوَبِيَّةِ أَعَةُ وَأَكْمَل | پھر ربوبیت کا فیض ہر اس فیض سے جس کا دلوں میں وَأَتَه مِن كُلِّ فَيْضٍ يَتَصَوَّرُ فِي الْأَفْئِدَةِ تصور کیا جا سکے یا جس کا ذکر زبانوں پر جاری ہو زیادہ أَوْ يَجْرِى ذِكْرُهُ عَلَى الْأَلْسِنَةِ ثُمَّ بَعْدَه وسیع، زیادہ کامل اور زیادہ جامع ہے۔پھر اس کے بعد فَيْضٌ عَامٌ وَقَد خُصَّ بِالنُّفُوسِ ایک فیض عام ہے اور وہ حیوانوں اور انسانوں سے مخصوص الْحَيَوَانِيَّةِ وَالْإِنْسَانِيَّةِ وَهُوَ فَيْضُ صِفَةِ ہے۔اور وہ صفت رحمانیت کا فیض ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے