تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 169
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة الفاتحة مرتبہ ہے اور وہ شخص کہ جو بدیوں میں سبقت لے گیا ہے اپنی اُس شقاوت عظمی کو کہ جو تمام شقاوتوں کی آخری حد ہے پہنچ جائے اور تا ہر ایک فریق اس اعلیٰ درجہ کے مکافات کو پالے جو اس کے لئے ممکن ہے یعنی اس کامل اور دائی مکافات کو پالے کہ جو اس عالم بے بقا اور زوال پذیر میں جس کا تمام رنج و راحت موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ہمنصہ ، ظہور نہیں آسکتی بلکہ اس کے کامل ظہور کے لئے مالک حقیقی نے اپنے لطف کامل اور قبر عظیم کے دکھلانے کی غرض سے یعنی جمالی و جلالی صفتوں کی پوری پوری بجلی ظاہر کرنے کے قصد سے ایک اور عالم جوابدی اور لازوال ہے مقررکر رکھا ہے تا خدائے تعالیٰ میں جو صفت مجازات ہے جس کا کامل طور پر اس منقبض اور فانی عالم میں ظہور نہیں ہو سکتا وہ اس ابدی اور وسیع عالم میں ظہور پذیر ہو جائے اور تا ان تجلیات تامہ اور کاملہ سے انسان اُس اعلیٰ درجہ کے شہود تمام تک بھی پہنچ جائے کہ جو اس کی بشری طاقتوں کے لئے حد امکان میں داخل ہے اور چونکہ اعلیٰ درجہ کی مکافات عند العقل اسی میں منحصر ہے کہ جو امر بطور جز اوارد ہے وہ انسان کے ظاہر و باطن و جسم و جان پر بتمام و کمال دائمی و لازمی طور پر محیط ہو جائے اور نیز اعلیٰ درجہ کا یقین مالک حقیقی کے وجود کی نسبت اسی بات پر موقوف ہے کہ وہ مالک حقیقی اسباب معتادہ کو بلکلی نیست و نابود کر کے عریاں طور پر جلوہ گر ہو۔اس لئے یہ صداقت قصوئی جس سے مطلب انتہائی معرفت اور انتہائی مکافات ہے تب ہی متحقق ہوگی کہ جب وہ تمام باتیں مذکورہ بالا تحقیق ہو جائیں کہ جو عند العقل اس کی تعریف میں داخل ہیں کیونکہ انتہائی معرفت بجز اس کے عند العقل ممکن نہیں کہ مالک حقیقی کا جمال بطور حق الیقین مشہور ہو یعنی ظہور اور بروز تام ہوجس پر زیادت متصوّر نہ ہو۔علیٰ ہذا القیاس انتہائی مکافات بھی بجز اس کے عند العقل غیر ممکن ہے کہ جیسے جسم اور جان دونوں دنیا کی زندگی میں مل کر فرمانبردار یا نا فرمان اور سرکش تھے ایسا ہی مکافات کے وقت وہ دونوں مور دانعام ہوں یا دونوں سزا میں پکڑے جائیں اور مکافات کا ملہ کا بحر مواج یکساں ظاہر و باطن پر اپنے احاطہ ء تام سے محیط اور مشتمل ہو جائے لیکن ہر ہمو سماج والے اس صداقت سے بھی انکاری ہیں۔بلکہ اس صداقت قصویٰ کا وجود ان کے نزدیک متحقق ہی نہیں اور با عم ان کے انسان کی قسمت میں نہ انتہائی معرفت کا پانا مقدر ہے نہ انتہائی مکافات کا اور مکافات ان کے نزدیک فقط ایک خیالی پلاؤ ہے جو صرف اپنے ہی بے بنیاد تصورات سے پکایا جائے گا نہ حقیقی طور پر کوئی جزا خدائے تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر وارد ہوگی نہ کوئی سزا بلکہ خود تراشیدہ خیالات ہی خوش حالی یا بدحالی کے موجب ہو جائیں گے اور کوئی ایسا ظاہری و باطنی امر نہیں ہوگا کہ جو خاص خدائے تعالیٰ کے ارادہ سے نیک بندوں پر بصورت نعمت اور بد بندوں پر بصورت عذاب اترے گا۔پس ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ امر مجازات کا خدا مالک ہے۔اور وہی اپنے نیک بندوں پر اپنے خاص ارادہ سے