تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 168
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة الفاتحة سے سیراب ہو جا ئیں اور شک اور شبہ کی موت سے بکلی نجات حاصل ہولیکن برہمو سماج والے اس صداقت سے انکاری ہیں اور بقول اُن کے انسان کچھ ایسا بد قسمت ہے کہ گو کیسا ہی دلبر حقیقی کے وصال کے لئے تڑپا کرے اور گو اُس کی آنکھوں سے دریا بہہ نکلے اور گو اس یار عزیز کے لئے خاک میں مل جائے مگر وہ ہر گز نہ ملے۔اور ان کے نزدیک وہ کچھ ایسا سخت دل ہے کہ جس کو اپنے طالبوں پر رحم ہی نہیں اور اپنے خاص نشانوں سے ڈھونڈھنے والوں کو تسلی نہیں بخشا اور اپنے دلبرانہ تجلیات سے دردمندوں کا کچھ علاج نہیں کرتا۔بلکہ اُن کو انہیں کے خیالات میں آوارہ چھوڑتا ہے۔اور اس سے زیادہ اُن کو کچھ بھی معرفت عطا نہیں کرتا کہ صرف اپنی انکلیں دوڑایا کریں اور اُنہیں انکلوں میں ہی ساری عمر کھو کر اپنی ظلمانی حالت میں ہی مر جائیں۔مگر کیا یہ سچ ہے کہ خداوند کریم ایسا ہی سخت دل ہے یا ایسا ہی بے رحم اور بخیل ہے یا ایسا ہی کمزور اور ناتوان ہے کہ ڈھونڈنے والوں کو سراسیمہ اور حیران چھوڑتا ہے اور کھٹکانے والوں پر اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اور جو صدق سے اس کی طرف دوڑتے ہیں ان کی کمزوری پر رحم نہیں کرتا اور ان کا ہاتھ نہیں پکڑتا اور ان کچے طالبوں کو گڑھے میں گرنے دیتا ہے اور خود لطف فرما کر چند قدم آگے نہیں آتا اور اپنے جلوہ خاص سے مشکلات کے نا ا۔لمبے قصہ کو کوتاہ نہیں کرتا۔سُبْحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَصِفُونَ - 1199 اسی طرح بر ہمو سماج والے خدائے تعالیٰ کے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونے سے بھی بے خبر ہیں۔کیونکہ یوم الجزاء کے مالک ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ملکیت تامہ کہ جو تجلیات عظمی پر موقوف سے ظہور میں آکر پھر اس ملکیت تامہ کی شان کے موافق پوری پوری جزا بندوں کو دی جائے۔یعنی اول اُس مالک حقیقی کی ملکیت تامہ کا ثبوت ایسے کامل الظهور مرتبہ پر ہو جائے کہ تمام اسباب معتادہ بکی درمیان سے اٹھ جائیں اور زید و عمر کا دخل درمیان نہ رہے اور مالک واحد قہار کا وجود عریاں طور پر نظر آوے اور جب یہ معرفت کا ملہ اپنا جلوہ دکھا چکی تو پھر جزا بھی بطور کامل ظہور میں آوے یعنی من حیث الور ودبھی کامل ہو اور من حیث الوجود بھی۔من حیث الورود اس طرح پر کہ ہر یک جزایاب کو جزا کے وارد ہونے کے ساتھ ہی یہ بات معلوم اور متحقق ہو کہ یہ فی الحقیقت اس کے اعمال کی جزا ہے اور نیز یہ بھی متحقق ہو کہ اس جزا کا وارد کننده فی الحقیقت کریم ہی ہے جو رب العالمین ہے کوئی دوسرا نہیں اور ان دونوں باتوں میں ایسا تحقیق ہو کہ کوئی اشتباہ درمیان نہ رہ جائے اور من حیث الوجود اس طرح پر کامل ہو کہ انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو جائے۔اور نیز دائگی اور لازوال اور غیر منقطع ہوتا وہ شخص جو نیکیوں میں سبقت لے گیا ہے اپنی اُس سعادت عظمی کو کہ جو تمام سعادتوں کا انتہائی اور