تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xviii of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xviii

xiii نمبر شمار مضمون صفحہ ۲۰۸ امت محمدیہ کو کلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں ایسی چیز بھی مل سکتی ہے جو انبیاء کے افراد میں سے کسی ایک فرد کو بھی حاصل نہیں ہوئی ۲۷۷ ۲۷۸ ۲۷۹ ۲۷۹ ۲۸۰ ۲۸۲ ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۴ ۲۸۷ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ ۲۹۴ ۲۰۹ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں انعام سے مراد الہام اور کشف وغیرہ ۲۱۰ ۲۱۱ آسمانی علوم ہیں امت محمدیہ کے لئے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے یقین اور محبت کے مقام پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء کا وقتا فوقتا آتے رہنا ضروری ہے ۲۱۲ اگر انعام و اکرام کا دروازہ بند تھا تو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھانا له الله ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ بے فائدہ بن جاتی ہے انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں چار منعم علیہم گروہوں کا ذکر نبی ، صدیق ، شہید اور صالح مکالمہ الہیہ کا اگر انکار ہو تو اسلام ایک مردہ مذہب ہوگا نبوت کا دروازہ بند قرار دینے سے امت محمد یہ خیر الامت نہیں رہتی اللہ تعالیٰ سب کو ولی بنانا چاہتا ہے ۲۱۷ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم میں مسیح موعود کی بعثت کی پیشگوئی ۲۱۸ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا تعلیم کرنے میں انسان کو تین پہلو مد نظر رکھنے کا ارشاد ۲۱۹ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں محمدی سلسلہ میں مسیح کے آنے کی پیشگوئی ۲۲۰ نجات محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے ۲۲۱ ۲۲۲ دعا صرف خدا کو راضی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ہونی چاہیے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں یہ مقصود ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر