تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 155
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة الفاتحة الصَّفَاتِ تَجْعَلُ اللهَ مُسْتَحِقًا لِلْعِبَادَةِ | اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق اور سعادت کے انعامات مُعْطِيًا مِنْ عَطَايَا السَّعَادَةِ وَأَمَّا بخشنے والا قرار دیتی ہیں۔لیکن صرف اس کی تقدیس کا التَّقْدِيسُ وَحْدَهُ كَمَا ذُكر في الإنجيل بيان جیسا کہ انجیل میں مذکور ہے روح میں عبادت کے فَلا يُحرك الرُّوحَ لِلْعِبَادَةِ بَلْ يَعْرُكُهَا لئے حرکت پیدا نہیں کرتا بلکہ اُسے سوئے ہوئے بیمار کی كَالنَّاثِمِ الْعَلِيْلِ طرح رہنے دیتا ہے۔وَأَمَّا سر هذا التَّرْتِيبِ الَّذِى باقی اس بات کا راز که بزرگ و برتر خدا تعالیٰ نے اخْتَارَة فِي الْفَاتِحَةِ رَبُّنَا الْمَجِيْدُ ذُو سورۃ فاتحہ میں جس ترتیب کو اختیار کیا ہے اور دُعا اور عبادت الْمَجْدِ وَالْعِزَّةِ وَذَكَرَ الْمَحَامِلَ قَبْلَ کے ذکر سے پہلے اپنے محامد کے ذکر کو بیان فرمایا ہے سویوں ذِكْرِ الدُّعَاءِ وَالْعِبَادَةِ فَاعْلَمُ أَنَّهُ فَعَل جانا چاہئے کہ اس نے ایسا اس لئے کیا ہے تا بزرگ و برتر ذلك ليذكر عِبَادَةَ عَظمَةً صِفَاتِ ذاتِ باری دُعا سے قبل اپنے بندوں کو اپنی صفات کی شان الْبَارِى ذِي الْمَجْدِ وَ الْعَلَاءِ قَبْلَ یاد دلائے اور اس طرف اشارہ کرے کہ وہی حقیقی آقا ہے الدُّعَاءِ وَيُشير إلى أنّه هُوَ الْمَوْلى لا اس کے سوا نہ تو کوئی نعمتیں دینے والا ہے اور نہ اس کے سوارحم مُنْعِمَ إِلَّا هُوَ وَلَا رَاحِمَ إِلَّا هُوَ وَلَا کرنے والا اور جزا سزا دینے والا ہے۔بندوں کو جو بھی مُجَازِيَ إِلَّا هُوَ وَ مِنْهُ يَأْتِي كُلُّ مَا يَأْتي انعام و اکرام ملتے ہیں وہ اُسی کی طرف سے آتے ہیں الْعِبَادَ مِنَ الْاَلَاءِ وَ النّعْمَاءِ - وَهذَا (سورة فاتحہ کی یہ ترتیب بہترین ہے اور روح کے لئے التَّرْتِيبُ أَحْسَنُ وَلِلرُّوحِ أَنْفَعُ فَإِنَّهُ بہت فائدہ بخش ہے۔وہ سعید انسان پر خدائے رحیم کے يُظْهِرُ عَلَى السَّعِيدِ مِنَنَ اللهِ الرَّحِيْمِ احسانوں کو خوب ظاہر کرتی ہے۔اور اُسے خدائے قدیر وکریم وَيَجْعَلُهُ مُسْتَعِدًا وَمُقْبِلًا عَلَى حَضْرَةِ کی بارگاہ میں آنے کے لئے تیار کرتی اور اس کی طرف الْقَدِيرِ الْكَرِيمِ وَيَظْهَرُ مِنْهُ تموج تام متوجہ کرتی ہے۔اور اس ترتیب سے طالبان حق کی روحوں تَمَوجُ في أَرْوَاحِ الظُّلبَاءِ كَمَا لا يخفى عَلَى أَهْلِ میں پورا جوش پیدا ہوتا ہے جیسا کہ عظمندوں پر پوشیدہ الدّهَاءِ وَأَمَّا تَخصيص ذكر الربوبية نہیں لیکن ان چاروں صفات ربوبیت ، رحمانیت، رحیمیت وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالْمَالِكِيَّةِ في الدُّنْيَا اور مالكيت كا ذکر جن کا تعلق دنیا و آخرت سے ہے خاص طور وَالْآخِرَةِ فَلِأَجْلِ أَنّ هذهِ الصِّفَاتِ پر اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ چاروں خدا کی تمام صفات کی