تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 154

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۴ سورة الفاتحة لِتَجِد شَهَادَةَ هَذَا التَّحْقِيقِ مِن بيانات ملیں گے پس تم گہری نظر سے دیکھو تا تمہیں اللہ تعالیٰ كِتَابِ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پروردگار عالم کی کتاب سے (میری اس ) تحقیق کی تصدیق مل (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۱) جائے۔( ترجمہ از مرتب ) ثُمَّ قَوْلُهُ تَعَالَى الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام پاک الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے الْعَلَمِينَ إلى يَوْمِ الدِّينِ رَدُّ لَطِيفٌ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک کی آیات میں ایک لطیف پیرایہ میں عَلَى التَّهْرِيَّينَ وَالْمُلْحِدِينَ دہریوں ، ملحدوں اور نیچریوں کے خیالات کی تردید ہے جو وَالطَّبِيعِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ خدائے بزرگ و برتر کی صفات پر ایمان نہیں رکھتے اور کہتے يصِفَاتِ اللهِ الْمَجِيْدِ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ ہیں کہ وہ علتِ موجبہ کی طرح تو ہے لیکن وہ مدتم بالا رادہ كَعِلَّةٍ مُوْجِبَةٍ وَلَيْسَ بِالْمُدَذِر نہیں اور اس میں انعام کرنے والے اور فیاض لوگوں کی طرح الْمُرِيدِ وَ لَا يُوجَدُ فِيهِ إِرَادَةُ ارادہ نہیں پایا جاتا ( تو تردید میں ) گو یا اللہ تعالی یہ فرماتا ہے كَالْمُنْعِمِينَ وَالْمُعْطِينِ فَكَأَنَّهُ يَقُولُ کہ تم کس لئے مخلوقات کے پروردگار پر ایمان نہیں لاتے اور كَيْفَ لَا تُؤْمِنُونَ بِرَبِّ الْبَرِيَّةِ وَ اس کی بالا راده ربوبیت کا انکار کرتے ہو۔حالانکہ وہی تو تمام تَكْفُرُونَ بِرَبُوبِيَّتِهِ الْإِرَادِيَّةِ وَ هُوَ جہانوں کی پرورش کرتا ہے اور وہ (سب کو ) اپنے احسانات الَّذِي يُرَى الْعَالَمِينَ وَيَعْمُرُ بِنَوَالِهِ وَ سے ڈھانپتا اور اپنی قدرت اور جلال کیساتھ آسمانوں يَحْفَظُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقُدْرَتِهِ اور زمین کی حفاظت فرماتا ہے۔جولوگ اس کی اطاعت کرتے وَ جَلَالِهِ وَ يَعْرِفُ مَنْ أَطَاعَةَ وَ مَنْ ہیں ان کو بھی اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کو بھی خوب جانتا عَلَى فَيَغْفِرُ الْمَعَاصِيَ أَوْ يُؤَدِّبُ ہے۔پس گناہگاروں کے گناہ معاف کر دیتا ہے یا سزا سے ان بِالْعَصَا وَ مَنْ جَاءَهُ مُطِيعًا فَلَهُ کی اصلاح کرتا ہے لیکن جو شخص فرمانبردار بن کر اس کے جَنَّتَانِ وَحَقَّتْ بِهِ فَرْحَتَانِ فَرحَةٌ پاس آئے۔اس کے لئے دو جنتیں ہیں اور دوخوشیاں اس کا يُصِيبُهُ مِن اسْمِ الرَّحِيْمِ وَأُخرى احاطہ کر لیتی ہیں ایک خوشی تو اسے صفت رحیمیت سے ملتی ہے مِنَ الرَّحْمنِ القَدِيمِ فَيُجْذِی جَزَاء اور دوسری خوش رحمانیت کی قدیم صفت سے ملتی ہے۔پس أَولى مِنَ اللهِ الْأَعْلى وَيُدْخَلُ في اسے اللہ بلند و برتر کی طرف سے پوری پوری جزا دی جاتی ہے۔الْفَائِزِينَ وَلَا شَكَ أَن هذه اور وہ با مراد لوگوں میں داخل کر دیا جاتا ہے۔لاریب یہ صفات