تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 147
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة الفاتحة الْجَاهِلِينَ۔وَمِنْ هُنَا نَجِدُ أَنَّ بِنَاءَ عَقِيدَةِ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کفارہ کے عقیدہ کی بنیاد خدا تعالیٰ الْكَفَّارَةِ عَلى عَبْلِ اللهِ بِنَاء فَاسِد علی کے عدل پر رکھنا بناء فاسد علی الفاسد ہے۔پس اس بارہ فَاسِدٍ فَتَدَبَّرُ فِيْهِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ لِكُسر میں خوب غور کرو کیونکہ اگر تم مناظرین اسلام میں سے صَلِيبِ النَّصَارَى إِن كُنتَ مین ہو تو نصاری کی صلیب کو توڑنے کے لئے یہی چیز الْمُنَافِرِينَ وَاسْمُ هَذِهِ الصَّفَةِ في كِتَاب تمہارے لئے کافی ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب میں اس الله تَعَالَى رَحِيْمِيَّةٌ كَمَا قَالَ اللهُ تعالی فی صفت کا نام رحیمیت ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی قرآن مجید كِتَابِهِ الْعَزِيزِ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ، میں فرماتا ہے وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا اور پھر فرمایا وَقَالَ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ فَهَذَا وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِیم۔پس یہ فیضان صرف اس کے مستحق الْفَيْضَانُ لا يَتَوَجَّهُ إِلَّا إِلَى الْمُسْتَحِي وَلَا کی طرف ہی رُخ کرتا ہے اور صرف عمل کرنے والوں کا يطلب إلَّا عَامِلا وهذا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ ہی متلاشی ہے۔رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ وَالْقُرْآنُ مَمْلُو من اور قرآن کریم اس فرق کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔نظاثِرِه ولكن كَفَاكَ هَذَا الْهَدْرُ إِن كُنتَ لیکن اس جگہ اتنا بیان ہی کافی ہے اگر تم منظمندوں میں منَ الْعَاقِلِينَ۔66 66 سے ہو۔الْقِسْمُ الرَّابِعُ مِنَ الْقَيْضَانِ فَيُضَان فیضان کی چوتھی قسم وہ فیضان ہے جسے ہم فیضانِ نُسَيْيْهِ فَيُضَانًا أَخَضُ وَ مَظهَرًا تامًا أخص يا مالكيت کے مظہر نام کے نام سے پکارتے لِلْمَالِكِيَّةِ وَهُوَ أَكْبَرُ الْفُيُوضِ وَأَعْلَاهَا وَ ہیں اور وہ فیوض میں سب سے بڑا سب سے اعلیٰ ، سب أَرْفَعُهَا وَأَتَتْهَا وَأَكْمَلُهَا وَمُنْتَبَاهَا وَ قمرة سے بلند، جامع ، سب سے زیادہ مکمل اور فیوض کا منتہی أَشْجَارِ الْعَالَمِينَ وَلَا يَظْهَرُ إِلَّا بَعْدَ هَدَم ہے۔اور تمام جہانوں کے درختوں کا پھل بھی۔اور اللہ عِمَارَاتِ هَذَا الْعَالَمِ الْحَقِيرِ الصَّغِيرِ و تعالیٰ کی طرف سے اس فیضان کا ظہور کامل اس حقیر اور دُرُوس اطلالِهِ وَآثَارِهِ وَشُحُوبِ سختیه صغیر عالم کی عمارتوں کے مسمار ہونے ، اس کے کھنڈروں سَحْنَتِهِ وَنُضُوبٍ مَاءِ وَجُدَتِهِ وَأُفُولِ تجيه اور نشانات کے مٹ جانے ، اس کے رنگ و روپ کے كَالْمُغَرِبِينَ وَهُوَ عَالَمٌ لَّطِيْف دَقَّتْ متغیر ہو جانے اور اس کے رخساروں کی آب و تاب أَسْرَارُهُ وَكَثُرَتْ أَنْوَارُهُ تِجَارُ فِيْهَا فَهُمُ زائل ہو جانے اور سب غروب ہونے والوں کی طرح ا۔(الاحزاب: ۴۴) ترجمہ۔اور وہ مومنوں پر بار بار رحم کرنے والا ہے ۲۔(البقرۃ:۲۱۹) ترجمہ۔اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔