تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 123
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۳ سورة الفاتحة گائے کی جون میں جائے اور اس عامل کو دودھ پلائے خواہ وہ اُس کا خاوند ہی کیوں نہ ہو ،غرض جب تک ایسا سلسلہ نہ ہوگا کوئی عامل اپنے عمل کی جزا ویدک ایشر کے خزانہ سے پانہیں سکتا کیونکہ اس کا سارا سلسلہ جوڑ توڑ ہی سے چلتا ہے۔مگر اسلام نے وہ خدا پیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزاوار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے۔وہ رحمن ہے بدوں عمل عامل کے اپنا فضل کرتا ہے۔پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے بامراد کرتی ہے دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دیگی۔مگر خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ کامل گورنمنٹ اور لا انتہا خزائن کی مالک ہے اُس کے حضور کوئی کمی نہیں۔کوئی عمل کرنے والا ہو وہ سب کو فائز المرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔وہ تو اب بھی ہے اور ستمی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کو ہزار ہا عیب اپنے بندوں کے معلوم ہوتے ہیں مگر وہ ظاہر نہیں کرتا۔ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بے باک ہو کر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اُٹھاتا بلکہ دہریت کی رگ اُس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بے باک کو چھوڑا جائے اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔غرض میرا مطلب تو صرف یہ تھا کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق اگر کوئی کمی یا نقص رہ جاوے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اُس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل اور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا مگر رحیمیت میں فعل و عمل کو دخل ہے لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔خدا کا رحم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرے اسی طرح مالک یوم الدین وہ ہے کہ اصل مقصد کو پورا کرے۔خوب یاد رکھو کہ یہ امہات الصفات روحانی طور پر خدا نما تصویر ہیں۔ان پر غور کرتے ہی معاً خدا سامنے ہو جاتا ہے اور روح ایک لذت کے ساتھ اُچھل کر اُس کے سامنے سر بسجود ہو جاتی ہے چنانچہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سے جو شروع کیا گیا تھا تو غائب کی صورت میں ذکر کیا ہے لیکن ان صفات اربعہ کے بیان کے بعد معا صورت بیان تبدیل ہوگئی ہے کیونکہ ان صفات نے خدا کو سامنے حاضر کر دیا ہے اس لئے حق تھا اور فصاحت کا تقاضا تھا کہ اب غائب نہ رہے بلکہ حاضر کی صورت اختیار کی جاوے پس اس دائرہ کی تکمیل کے تقاضانے مخاطب کی طرف منہ پھیرا اور ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہا۔الحکم نمبر ۲۳ جلد ۵ مؤرخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱)