تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 122

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۲ سورة الفاتحة وہی طرز بیان اختیار کی ہے جو کہ ہر یک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آرہی ہے۔کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الہی صحیفہ، فطرت میں واقعہ ہیں اسی ترتیب سے صحیفہ الہام میں بھی واقعہ ہوں۔سو ایسی عمدہ اور پر حکمت ترتیب پر اعتراض کرنا حقیقت میں انہیں اندھوں کا کام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔چشم بد اندیش که برکنده باد عیب نماید هنرش در نظر (براہین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۴۴ تا ۴۵۷ حاشیه نمبر۱۱) سورہ فاتحہ میں اُس خدا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جو قرآن شریف منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اُس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو امہات الصفات کہلاتی ہیں جیسے سورہ فاتحہ اُمّ الکتاب ہے ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی اتم الصفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں رب العلمينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدين۔ان صفات اربعہ پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آ جاتا ہے۔ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اور اس میں کل مخلوق کی کل حالتوں میں تربیت اور اس کی تکمیل کے تکفل کی طرف اشارہ ہے۔غور تو کرو جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر سوچتا ہے تو اُس کی اُمید کس قدر وسیع ہو جاتی ہے اور پھر رحمانیت یہ ہے کہ بدوں کسی عمل عامل کے اُن اسباب کو مہیا کرتا ہے جو بقائے وجود کے لئے ضروری ہیں دیکھو چاند سورج ، ہوا، پانی وغیرہ بدوں ہماری دُعا اور التجا کے اور بغیر ہمارے کسی عمل اور فعل کے اُس نے ہمارے وجود کے بقا کے لئے کام میں لگا رکھے ہیں اور پھر رحیمیت یہ ہے کہ اعمال کو ضائع نہ کرے اور مُلِكِ يَوْمِ الدّین کا تقاضا یہ ہے کہ بامراد کر دے جیسے ایک شخص امتحان کے لئے بہت محنت سے طیاری کرتا ہے مگر امتحان میں دو چار نمبروں کی کمی رہ جاتی ہے تو دنیوی نظام اور سلسلہ میں تو اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس کو گرا دیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رحیمیت اس کی پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرا دیتی ہے۔رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے عیسائیوں کا خدا ذرا بھی پردہ پوش نہیں ہے ورنہ کفارہ کی کیا ضرورت رہتی۔ایسا ہی آریوں کا خدا نہ رب ہے نہ رحمان ہے کیونکہ وہ تو بلا مرد اور بلا عمل کچھ بھی کسی کو عطا نہیں کر سکتا۔یہاں تک کہ ویدوں کے اصول کے موافق گناہ کرنا بھی ضروری معلوم دیتا ہے مثلاً ایک شخص کو اگر کسی اس کے عمل کے معاوضہ میں گائے کا دودھ دینا مطلوب ہے تو بالمقابل یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی برہمنی (اگر یہ روایت صحیح ہو ) زنا کرے تا کہ اس فسق وپخش کے بدلہ میں وہ