تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۱ سورة الفاتحة لانے سے یہ غرض ہے کہ تا یہ معنے ظاہر ہوں کہ جزا سے مراد وہ کامل جزا ہے جس کی تفصیل فرقانِ مجید میں مندرج ہے۔اور وہ کامل جزا بجز تجلی مالکیت تامہ کے کہ جو ہدم بنیان اسباب کو مستلزم ہے ظہور میں نہیں آسکتی۔چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے۔لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن : ۱۷) یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھائے گی اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجر قوت عظمیٰ اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب بیچ ہیں۔تب سارا آرام و سرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی۔تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہوگا کہ جو اس سعادت عظمیٰ کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔اور اس جگہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اور لذت یا درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی ذات ہوگی اور مالک امر مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہوگا یعنی اسی کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا۔اس طرح پر کہ جولوگ اس کی ذات پر ایمان لائے تھے اور توحید اختیار کی تھی اور اس کی خالص محبت سے اپنے دلوں کو رنگین کر لیا تھا ان پر انوار رحمت اس ذات کامل کے صاف اور آشکار طور پر نازل ہوں گے۔اور جن کو ایمان اور محبت الہیہ حاصل نہیں ہوئی وہ اس لذت اور راحت سے محروم رہیں گے اور عذاب الیم میں مبتلا ہو جا ئیں گے۔یہ فیوض اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ صفت رحمان کو صفت رحیم پر مقدم رکھنا نہایت ضروری اور مقتضائے بلاغتِ کاملہ ہے کیونکہ صحیفہء قدرت پر جب نظر ڈالی جائے تو پہلے پہل خدائے تعالی کی عام ربوبیت پر نظر پڑتی ہے۔پھر اس کی رحمانیت پر۔پھر اس کی رحیمیت پر۔پھر اس کے ملک يَوْمِ الدِّينِ ہونے پر اور کمال بلاغت اس کا نام ہے کہ جو صحیفہ فطرت میں ترتیب ہو وہی ترتیب صحیفہ الہام میں بھی ملحوظ رہے۔کیونکہ کلام میں ترتیب قدرتی کو منقلب کرنا گویا قانونِ قدرت کو منقلب کرنا ہے اور نظام طبیعی کو الٹا دینا ہے۔کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اس کی عکسی تصویر ہو۔اور جو امر طبعاً اور وقوعاً مقدم ہو اس کو وضعاً بھی مقدم رکھا جائے۔سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ باوجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور