تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 120

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة نہیں ہے۔اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابھی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے۔کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمی کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو۔اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے۔اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔اور ہر یک دقیقہ معرفت تامہ کا مکمن قوت سے حنیز فعل میں آجائے۔اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس کی نسبت آپ خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابھی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقل اور خیالا اور وہم زیادت متصور نہ ہو۔اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکد رالصورت اور ہالکتۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور فضیق الظرف ہے۔ان تجلیات عظمیٰ اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا۔اور وہ اشعہ تامہ کاملہ دائمہ اس میں سمانہیں سکتے بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے کہ جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔ہاں اس فیضانِ اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہوکر بکلی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں کیونکہ وہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگر چہ بظاہرصورت اس عالم میں ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں۔پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو توڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے مونہہ پھیر کر وہ طریق جو خارقِ عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارقِ عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجز موت کے ظاہر نہیں ہو سکتے۔غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضان اخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں اور یہ فیضان ہر ایک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے۔اور اس کو پانے والا سعادت عظمی کو پانچ جاتا ہے اور خوشحالی دائمی کو پالیتا ہے کہ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے۔اور جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہمیشہ کے دوزخ میں پڑا۔اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنا نام ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بیان فرمایا ہے۔دین کے لفظ پر الف لام