تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 119

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٩ سورة الفاتحة پر قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔جیسا ایک جگہ فرمایا ہے وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب: ۴۴) یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ گانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحمانا بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے۔اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: ۵۷) یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرة : ۲۱۹ ) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے یعنی اس کا فیضانِ رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔عاشق که شد که بار بحالش نظر نه کرد اے خواجہ در دنیست وگر نه طبیب ہست وگرنه چوتھا قم فیضان کا فیضان احض ہے۔یہ وہ فیضان ہے کہ جو صرف محنت اور سعی پر مترتب نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے ظہور اور بروز کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے۔بکلی معدوم اور منعدم ہو جائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے بر ہنہ طور پر اپنا کامل چمکا را دکھلاوے کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔یعنی نہ مفیض کے بالا رادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے۔اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا ہی روز روشن کی طرح کھل جائے اور شخص فیض یاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک الملک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمی اور لذت کبرگی اس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔کسی قسم کا امتحان اور ابتلا