تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xiv
ix نمبر شمار مضمون ۱۳۹ عرش الہی کو چار فرشتوں کے اٹھانے کا مطلب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم صفات الہی کا مظہر ہیں ۱۴۰ ۱۴۱ صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے اظہار کے نتیجہ میں صحابہ نے دنیا میں کامیابی حاصل کی ۱۴۲ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے ذریعہ اسلام جادہ اعتدال پر رہنے کی تعلیم دیتا ہے ۱۴۳ سورۃ فاتحہ میں آریوں اور سنا تنیوں کا رد ۱۴۴ سورۃ فاتحہ میں مذاہب باطلہ کا رد ۱۴۵ عبادت اور احکام الہی کی دو شاخیں اور ان کا بیان سورۃ فاتحہ میں عبادت کی محرک دو چیزیں حسن یا احسان اور ان کا بیان سورۃ فاتحہ میں ۱۴۷ سورۃ فاتحہ میں مذکور چاروں صفات خدا تعالیٰ کے جو د اور کرم پر مشتمل ہیں ۱۴۸ قرآن کریم کو الحمدُ للہ سے شروع کرنے میں حکمت ۱۴۹ سورۃ فاتحہ میں انسان کے لئے سبق ۱۵۰ انجیل کی دعا اور سورۃ فاتحہ کی دعا کا تقابل صفحہ ۱۸۹ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۲ ۱۹۳ ١٩٦ ۱۹۸ ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۱ ۲۰۱ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۸ ۲۱۳ ۲۱۴ عرش الہی کی حقیقت اور سورۃ فاتحہ کے ذریعہ اس سے مخفی وجود کا ظہور ۱۵۱ ۱۵۲ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والے کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات اربعہ کو اپنے اندر قائم کرے ۱۵۳ آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی تشریح ۱۵۴ ايَّاكَ نَعْبُدُ کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کرنے میں حکمت ۱۵۵ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں تدبیر اور دعا دونوں کو ملا دیا گیا ہے ۱۵۶ اور یہی اسلام ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین میں انسانی زندگی کے مقصد کا بیان