تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 112

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۲ سورة الفاتحة چاند کو پردہ پوش اپنی ذات کا بنا کر اندھیری راتوں کو روشنی بخشتا ہے جیسا کہ وہ تاریک دلوں میں خود داخل ہو کر ان کو منور کر دیتا ہے اور آپ انسان کے اندر بولتا ہے ۔ وہی ہے جو اپنی طاقتوں پر سورج پر سورج کا پردہ ڈال کر دن کو ایک عظیم الشان روشنی کا مظہر بنا دیتا ہے اور مختلف فصلوں میں مختلف اپنے کام ظاہر کرتا ہے۔ اسی کی طاقت آسمان سے برستی ہے جو مینہ کہلاتی ہے اور خشک زمین کو سر سبز کر دیتی ہے اور پیاسوں کو سیراب کر دیتی ہے۔ اسی کی طاقت آگ میں ہو کر جلاتی ہے اور ہوا میں ہو کر دم کو تازہ کرتی اور پھولوں کو شگفتہ کرتی اور بادلوں کو اُٹھاتی اور آواز کو کانوں تک پہنچاتی ہے۔ یہ اسی کی طاقت ہے کہ زمین کی شکل میں مجسم ہو کر نوعِ انسان اور حیوانات کو اپنی پشت پر اُٹھا رہی ہے مگر کیا یہ چیزیں خدا ہیں؟ نہیں بلکہ مخلوق مگر ان کے اجرام میں خدا کی طاقت ایسے طور سے پیوست ہو رہی ہے کہ جیسے قلم کے ساتھ ہاتھ ملا ہوا ہے اگر چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قلم لکھتی ہے مگر قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے یا مثلاً ایک لوہے کا ٹکڑا جو آگ میں پڑ کر آگ کی شکل بن گیا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جلاتا ہے اور روشنی بھی دیتا ہے مگر دراصل وہ صفات اُس کی نہیں بلکہ آگ کی ہیں۔ اسی طرح تحقیق کی نظر سے یہ بھی سچ ہے کہ جس قدر اجرام فلکی و عناصر ارضی بلکه ذره ذره عالم رہ عالم سفلی اور علوی کا مشہود اور محسوس ہے یہ سب باعتبارا اپنی مختلف خاصیتوں کے جو ان میں پائی جاتی ہیں خدا کے نام ہیں اور خدا کی صفات ہیں اور خدا کی طاقت ہے جو ان کے اندر پوشیدہ طور پر جلوہ گر ہے اور یہ سب ابتدا میں اسی کے کلمے تھے جو اس کی قدرت نے ان کو مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا ۔ نادان سوال کرے گا کہ خدا کے کلمے کیونکر مجسم ہوئے کیا خدا ان کے علیحدہ ہونے سے کم ہو گیا مگر اس کو سوچنا چاہئے کہ آفتاب سے جو ایک آتشی شیشی آگ حاصل کرتی ہے وہ آگ کچھ آفتاب میں سے کم نہیں کرتی ۔ ایسا ہی جو کچھ چاند کی تاثیر سے پھلوں میں فربہی آتی ہے وہ چاند کوڈ بلا نہیں کر دیتی۔ یہی خدا کی معرفت کا ایک بھید اور تمام نظام روحانی کا مرکز ہے کہ خدا کے کلمات سے ہی دنیا کی پیدائش ہے جبکہ یہ بات طے ہو چکی اور خود قرآن شریف نے یہ علم ہمیں عطا کیا تو پھر میرے نزدیک ممکن ہے کہ وید نے جو کچھ آگ کی تعریف کی یا ہوا کی تعریف کی یا سورج کی مہما اور اُستت کی اس کا بھی یہی مقصد ہو گا کہ الہی طاقت ایسے شدید تعلق سے ان کے اندر کام کر رہی ہے کہ در حقیقت اس کے مقابل وہ سب اجرام بطور چھلکے کے ہیں اور وہ مغز ہے اور سب صفات اُسی کی طرف رجوع کرتی ہیں اس لئے اسی کا نام آگ رکھنا چاہئے اور اسی کا نام پانی اور اسی کا نام ہوا کیونکہ ان کے فعل ان کے فعل نہیں بلکہ یہ سب اس کے فعل ہیں اور ان کی طاقتیں ان کی طاقتیں نہیں بلکہ یہ سب اس کی طاقتیں ہیں جیسا کہ سورۃ فاتحہ کی اس