تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 107

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+2 سورة الفاتحة الْعَالَمُ مَا يُعْلَمُ وَيُخْبَرُ عَنْهُ وَمَا يَدُلُّ عَالَم کے معنے ہیں جس کے متعلق علم اور خبر دی جا عَلَى الصَّائِعِ العَامِلِ الْوَاحِدِ المُدار سکے اور جو مدتم بالا رادہ کامل یگانہ صانع پر دلالت کرے۔بِالْإِرَادَةِ يَلْتَحِصُ القَالِبَ إِلَى الْإِيْمَانِ بِهِ اور جو ( یعنی عالم ) اس ( یکتا ہستی) پر ایمان لانے کے لئے طلب حق کو مجبور کردے اور اس (طالب) کو وَيَنْصُّهُ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۱۰) مومنوں ( کے گروہ) تک پہنچا دے۔( ترجمہ از مرتب) وَعَرَفْتَ أَنَّ الْعَالَمِينَ عِبَارَةٌ عَنْ كُلِّ اور آپ جان چکے ہیں کہ عالمین سے مراد مخلوق کو مَوْجُوْدٍ سِوَى اللهِ خَالِقِ الْأَكَامِ سَوَاءٌ كَانَ پیدا کرنے والے خدا کے سوا ہر بستی ہے خواہ وہ عالم مِنْ عَالَمِ الْأَرْوَاحِ أَوْ مِنْ عَالَمِ الْأَجْسَامِ ارواح سے ہو عالم اجسام سے اور خواہ وہ زمینی مخلوق وَسَوَاءٌ كَانَ مِنْ تَخَلُوقِ الْأَرْضِ أَو تحالشمس سے ہو یا سورج چاند اور ان کے علاوہ دیگر اجرام کی وَالْقَمَرِ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْأَجْرَامِ فَكُلٌّ فِن مانند ( کوئی چیز ) ہو۔پس تمام عالم جناب باری کی الْعَالَمِينَ دَاخِل تَحْتَ رُبُوَبِيَّةِ الْحَضْرَةِ۔ربوبیت کے تحت داخل ہیں۔( ترجمہ از مرتب ) اعجاز مسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۴۰،۱۳۹) یہاں خالق العالمین نہیں فرمایا بلکہ رب العالمین فرمایا اس لئے کہ بعض قو میں ربوبیت کی منکر ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے ہمارے عملوں کے سبب سے ہی ملتا ہے مثلاً اگر دودھ ملتا ہے تو اگر ہم کوئی گناہ کر کے گائے یا بھینس وغیرہ کے جون میں نہ جاتے تو دودھ ہی نہ ہوتا۔اور خلق چونکہ قطع برید کرنے کا نام ہے اس لئے اس موقعہ پر ربّ العالمین کو جو اس سے افضل تر ہے بیان فرمایا۔(احکم جلد ۴ نمبر ۲۴۰ مؤرخہ ۱۰ارنومبر ۱۹۰۰ صفحه ۴) خدا تمام دنیا کا خدا ہے اور جس طرح اس نے ظاہر جسمانی ضروریات اور تربیت کے واسطے مواد اور سامان تمام قسم کی مخلوق کے واسطے بلا کسی امتیاز کے مشترکہ طور سے پیدا کئے ہیں۔اور ہمارے اصول کے رو سے وہ رب العالمین ہے۔اور اُس نے اناج، ہوا، پانی، روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتاً فوقتا مصلح بھیجتا رہا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( فاطر:۲۵) الحکم نمبر ۳۶ جلد ۱۲ مؤرخه ۲/جون ۱۹۰۸ء صفحه ۶) رب العالمین اس لئے بھی فرمایا تا کہ یہ ثابت کرے کہ وہ بسا ئط اور عالم امر کا بھی رب ہے کیونکہ بسیط چیزیں امر سے ہیں اور مرکب خلق سے ہے۔منہ