تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiii of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xiii

صفحہ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۵۹ ۱۵۹ 17۔۱۶۲ ܬܙ ۱۷۰ ۱۷۳ ۱۷۵ 122 ۱۷۸ ۱۸۰ ۱۸۲ ۱۸۵ ۱۸۸ ۱۸۸ viii نمبر شمار ۱۲۱ مضمون پہلی صداقت۔تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں ۱۲۲ دوسری صداقت۔ہر جاندار کے قیام اور بقاء کے اسباب کسی عامل کے عمل کا نتیجہ نہیں ۱۳ تیسری صداقت سعی کرنے والوں کی سعی پر خدا تعالیٰ ثمرات مرتب کرتا ہے ۱۲۴ چوتھی صداقت کامل جزا سزا کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۱۲۵ سعادت عظمی اور شقاوت عظمی کیا چیز ہیں۔۱۲۶ مذکورہ بالا چار صداقتوں کا مکمل اظہار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا ۱۲۷ عیسائیوں کے مذہب کا خلاصہ ۱۲۸ خدا تعالیٰ کی چہار صداقتوں رب ، رحمن ، رَحِيم ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے بارہ میں برہمو سماج والوں کا اعتقاد ۱۲۹ فیوض ربوبیت، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت میں مابہ الامتیاز اللہ تعالیٰ کا اپنی چار صفات کا اظہار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر ۱۳۱ یوم الدین میں مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ۱۳۲ امت محمدیہ کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ کا اظہار ۱۳۳ صفات اربعہ کے متعلق ایک کشفی نکتہ ۱۳۴ جہاد بالسیف کی عدم ضرورت ۱۳۵ سورۃ فاتحہ میں بیان شدہ چار صفات میں پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ کے مظہر کامل تھے ۱۳۶ ۱۳۷ اسلام میں خدا کی ایسی صفات مانی گئی ہیں جن میں کوئی نقص نہیں نکالا جا سکتا مانی جاسکتا ۱۳۸ خدا تعالی کی چار صفات اس کی الوہیت کی مظہر اتم ہیں