تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xiii
صفحه ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۵۹ ۱۵۹ ١٦٠ ۱۶۲ ۱۶۵ ۱۷۰ ۱۷۳ ۱۷۵ ۱۷۷ ۱۷۸ ۱۸۰ ۱۸۲ ۱۸۵ ۱۸۸ ۱۸۸ viii نمبر شمار ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ اله له ۱۲۵ ۱۲۶ مضمون پہلی صداقت ۔ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں دوسری صداقت ۔ ہر جاندار کے قیام اور بقاء کے اسباب کسی عامل کے عمل کا نتیجہ نہیں تیسری صداقت ۔ سعی کرنے والوں کی سعی پر خدا تعالیٰ ثمرات مرتب کرتا ہے چوتھی صداقت ۔ کامل جزا سزا کا مالک اللہ تعالیٰ ہے سعادت عظمی اور شقاوت عظمی کیا چیز ہیں ۔ مذکورہ بالا چار صداقتوں کا مکمل اظہار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا ۱۲۷ عیسائیوں کے مذہب کا خلاصہ ۱۲۸ ۱۲۹ خدا تعالیٰ کی چہار صداقتوں رب ، رَحْمَن ، رَحِيمٍ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے بارہ میں برہمو سماج والوں کا اعتقاد فیوض ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت میں مابہ الامتیاز الله ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی چار صفات کا اظہار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر ۱۳۱ ۱۳۲ یوم الدین میں مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ امت محمدیہ کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ کا اظہار ۱۳۳ صفات اربعہ کے متعلق ایک کشفی نکتہ ۱۳۴ جہاد بالسیف کی عدم ضرورت ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ سورۃ فاتحہ میں بیان شدہ چار صفات میں پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفاتِ اربعہ کے مظہر نہ کے مظہر کامل تھے اسلام میں خدا کی ایسی صفات مانی گئی ہیں جن میں کوئی نقص نہیں نکالا جا سکتا ۱۳۸ خدا تعالیٰ کی چار صفات اس کی الوہیت کی مظہر اتم ہیں