تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 106

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+7 سورة الفاتحة حَمْدِهِ دَائِمِينَ۔وَعَلَى ذِكْرِهِمْ عَاكِفِينَ | کرتی رہتی ہے اور جب اس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ في كُلّ کا چولہ اتار پھینکتا ہے اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے حِينٍ وَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا انْسَلَخَ عَن اللہ تعالیٰ اور اس کی راہوں اور اس کی عبادات میں فنا ہو إرَادَاتِهِ وَتَجَرَّدَ عَنْ جَذَبَاتِهِ وَفَنا فی اللہ جاتا ہے اپنے اس رب کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات وَفِي طَرُقِهِ وَعِبَادَاتِهِ عَرَفَ رَبَّهُ الَّذِی سے اس کی پرورش کی وہ اپنے تمام اوقات میں اس کی حمد ، رَبَّاهُ بِعِنَايَاتِهِ۔حَمِدَهُ في سَائِرِ أَوْقَاتِه و کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے (وجود کے ) تمام أَحَبَّهُ بِجَمِيعِ قَلْبِهِ بَلْ بِجَمِيعِ ذَراتِهِ ذرات سے اس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص فَعِندَ ذَالِكَ هُوَ عَالَم مِن الْعَالَمِينَ وَ عالمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے اس لئے اعلم العالمین لذالك سامي إبْرَاهِيمُ أُمَّةً في كِتَابِ کی کتاب (قرآن کریم ) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا أَعْلَمِ الْعَالِمِينَ۔وَمِنَ الْعَالَمِينَ زَمَانُ نام اُمت رکھا گیا اور عالمین سے ایک عالم وہ بھی ہے جس أُرْسِلَ فِيْهِمْ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَ عَالَم میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے أَخَرُفِيْهِ يَأْتي اللهُ بِالخَرِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ گئے۔ایک اور عالم وہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنے طالبوں فِي آخِرِ الزَّمَانِ رَحْمَةً عَلَى الظَّالِبِينَ وَ پر رحم کر کے آخری زمانہ میں مومنوں کے ایک دوسرے إِلَيْهِ أَشَارَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " لَهُ الْحَمْدُ فِی گروہ کو پیدا کرے گا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے الأولى وَ الْآخِرَةِ ، فَأَوْماً فِيهِ إِلَى أَحْمَدَيْنِ كلام " لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَ الْأَخِرَةِ " میں اشارہ فرمایا وَجَعَلَهُمَا مِنْ نَعْمَائِهِ الْكَاثِرَةِ فَالْأَوَّلُ ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمد وں کا ذکر مِنْهُمَا أَحْمَدُ الْمُصْطَفى وَ رَسُولَنَا فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان الْمُجْتَبى وَالثَّانِي أَحْمَدُ أخرِ الزَّمَانِ میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفیٰ اور رسول مجتبی الَّذِي سُمي مَسِيعًا وَ مَهْدِيَّا من الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا احمد، احمد آخرالزمان ہے الْمَثَّانِ۔وَقَدِ اسْتَنَبَطتُ هذهِ النُّكْتَةَ جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا مِنْ قَوْلِهِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ “ ہے یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ فَلْيَتَدَبَّرُ مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبِرِينَ العلمین سے اخذ کیا ہے پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور (اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۳۱ تا۱۳۹) کرنا چاہئے۔( ترجمہ از مرتب ) ود القصص : ا