تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 101

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۱ سورة الفاتحة اس میں نہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ انسانی کمزوریوں اور نقصوں کا پہلا اور کامل نمونہ اسے ماننا پڑے گا۔ تو الْحَمْدُ لِلهِ کہنے والا کب ایسے کمزور اور مصلوب ملعون کو خدا مان سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن عیسائیوں کے بالمقابل ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو سکتا ہی نہیں۔ پھر آ ر یہ مذہب کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پرمیشر وہ ہے جس نے ذات عالم اور ارواح عالم کو بنایا ہی نہیں بلکہ جیسے وہ ازلی ابدی ہے ویسے ہی ہمارے ذرات جسم وغیرہ بھی خدا کے بالمقابل اپنی ایک مستقل ہستی رکھنے والی چیزیں ہیں جو اپنے قیام اور بقا کے لئے اس کی محتاج نہیں ہیں بلکہ ایک طرح وہ اپنی خدائی چلانے کے واسطے ان چیزوں کا محتاج ہے وہ کسی چیز کا خالق نہیں اور پھر اس بات کا سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جو خالق نہیں وہ مالک کیسے ہو سکتا ہے؟ اور ایسا ہی ان کا اعتقاد ہے کہ وہ رازق کریم وغیرہ کچھ بھی نہیں ۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اس کے کرموں کا پھل ملتا ہے اس سے زائد اسے کچھ پل سکتا ہی نہیں۔ اب بتاؤ اس قدر نقص جس خدا میں پیش کئے جاویں عقل سلیم کب اسے تسلیم کرنے کے لئے رضا مند ہو سکتی ہے؟ اسی طرح سے جس قدر مذاہب باطلہ دنیا میں موجود ہیں الْحَمْدُ لِلهِ کا جملہ خدا تعالیٰ کے متعلق ان کے کل غلط اور بیہودہ خیالات و معتقدات کی تردید کرتا ہے۔ (الحکم نمبر ۱۷ جلد ۷ مؤرخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲) رب ۔ لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتا بیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں ۔ مالک۔ سید ۔ مدبر - مربی قیمه منعم مستم ۔ چنانچہ رب کا لفظ سات معنوں پر - - ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لاسکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ قبضہ تامہ ہوا اور تصرف تمام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں ۔ - من الرحمان - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۲، ۱۵۳ حاشیه ) أَشَارَ اللهُ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ رَبِّ الله سبحانہ تعالیٰ نے اپنے قول ربّ العالمین با الْعَلَمِينَ إِلَى أَنَّهُ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ وَمِنْهُ كُلَّمَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِينَ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے وَمِنَ الْعَالَمِينَ مَا يُوجَدُ فِي الْأَرْضِ مِنْ اور اس زمین پر جو بھی ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور