تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 100
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة ہیں تو جاننا چاہئے کہ وہ بھی اپنے اس بیان میں جھوٹے ہیں۔کیونکہ ہم اسی مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ برہمو لوگ خدائے تعالیٰ کے لئے گونگا اور غیر متکلم ہونا اور نطق پر ہرگز قادر نہ ہونا اور اپنے علوم کے القا اور الہام سے عاجز ہونا تجویز کرتے ہیں اور جو حقیقی اور کامل بادی میں صفات کا ملہ ہونی چاہئے۔ان صفات سے اس کو خالی سمجھتے ہیں بلکہ اس قدر ایمان بھی انہیں نصیب نہیں کہ وہ خدائے تعالی کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ اپنی ہستی اور الوہیت کو اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے دنیا میں ظاہر کیا ہے۔برخلاف اس کے وہ تو یہ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ ایک مُردہ یا ایک پتھر کی طرح کسی گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔عقلمندوں نے آپ محنتیں کر کے اس کے وجود کا پتہ لگایا اور اس کی خدائی کو دنیا میں مشہور کیا۔پس ظاہر ہے کہ وہ بھی مثل اپنے اور بھائیوں کے محامد کاملہ حضرت احدیت سے منکر ہیں۔بلکہ جن تعریفوں سے اس کو یاد کرنا چاہئے وہ تمام تعریفیں اپنے نفس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۳۶ تا ۴ ۴۴ حاشیہ نمبر ۱) یہ فخر قرآن شریف ہی کو ہے کہ جہاں وہ دوسرے مذاہب باطلہ کا رڈ کرتا ہے۔اور ان کی غلط تعلیموں کو کھولتا ہے وہاں اصلی اور حقیقی تعلیم بھی پیش کرتا ہے۔جس کا نمونہ اس سورہ فاتحہ میں دکھایا ہے کہ ایک ایک لفظ میں مذاہب باطلہ کی تردید کر دی ہے مثلاً فرمایا الحمدُ للهِ ساری تعریفیں خواہ وہ کسی قسم کی ہوں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزا وار ہیں۔اب اس لفظ کو کہہ کر یہ ثابت کیا کہ قرآن شریف جس خدا کو منوانا چاہتا ہے وہ تمام نقائص سے منزہ اور تمام صفات کاملہ سے موصوف ہے۔کیونکہ اللہ کا لفظ اسی ہستی پر بولا جاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو ہی نہیں۔اور کمال دو قسم کے ہوتے ہیں یا بلحاظ محسن کے یا بلحاظ احسان کے۔پس وہ دونوں قسم کے ا کمال اس لفظ میں پائے جاتے ہیں۔دوسری قوموں نے جو لفظ خدا تعالیٰ کے لئے تجویز کئے ہیں وہ ایسے جامع نہیں ہیں۔اور یہی لفظ اللہ کا دوسرے باطل مذاہب کے معبودوں کی ہستی اور ان کی صفات کے مسئلہ کی پوری تردید کرتا ہے مثلاً عیسائیوں کو لو وہ جس کو اللہ مانتے ہیں وہ ایک عاجز ضعیف عورت کا بچہ ہے جس کا نام یسوع ہے جو معمولی بچوں کی طرح دکھ درد کے ساتھ ماں کے پیٹ سے نکلا اور عوارض میں مبتلا رہا۔بھوک پیاس کی تکلیف سے بے چین رہا۔اور سخت تکلیفیں اور دکھ اسے اُٹھانے پڑے۔جس قدر ضعف اور کمزوریوں کے عوارض ہوتے ہیں ان کا شکار رہا۔آخر یہودیوں کے ہاتھوں سے پیٹا گیا اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔اب اس صورت کو جو یسوع کی (عیسائیوں نے جس کو خدا بنا رکھا ہے ) انجیل سے ظاہر ہوتی ہے کسی دانشمند کے سامنے پیش کرو۔کیا وہ کہہ دے گا کہ بیشک اس میں تمام صفات کا ملہ پائی جاتی ہیں اور کوئی نقص