تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xii
vii نمبر شمار ۱۰۶ مضمون رَبُّ الْعَلَمِینَ میں یہ اشارہ کہ اللہ تعالیٰ کا فیض کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں ۱۰۷ رَبُّ الْعَلَمِینَ کے الفاظ میں آریہ لوگوں کے خیال کی تردید ۱۰۸ رَبُّ الْعَلَمِینَ میں یہ اشارہ کہ دنیا کے ہر عصر کے اندر خدا کی دی ہوئی طاقت ہی کام کر رہی ہے 1+9 11۔۱۱۲ رَبِّ الْعَلَمِينَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں ترتیب طبعی ہے صفات اربعہ میں اللہ کے چار اقسام کے فیضان کی طرف اشارہ فیضان ائم، فیضان عام، فیضان خاص، فیضان اخص رب ، رحمان، رحیم، مالک یوم الدین امہات الصفات ہیں صفات اربعہ اللہ تعالیٰ کے اسم ذات سمیت پانچ سمندر ہیں جن سے 6 پانچ آیات إِيَّاكَ نَعْبُدُ ، إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صفحہ 11+ = ۱۱۵ ۱۱۵ ۱۲۲ ۱۲۴ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ فیض لیتی ہیں 99191 اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے ۱۲۹ تا بعد آنے والی آیات کا ان مذکورہ صفات سے لطیف تعلق صفت رحیمیت میں عیسائیوں کی تردید ربوبیت، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت خدا تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں صفات اربعہ کا حصر اس دنیا کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے صفات اربعہ اللہ تعالی کی باقی صفات کے لئے اصولی صفات ہیں عرش الہی اور اس پر اللہ تعالیٰ کے مستوی ہونے کا مطلب اَلْحَمْدُ لِلَّهِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تک کی آیات میں دہریوں ملحدوں اور نیچریوں کا رد رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت سے لے کر ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک کی صفات میں چار عالی شان صداقتیں ۱۵۸ ۱۳۱ ۱۴۹ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۰ ۵۴ ۱۵۷ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ ١١٩ ۱۲۰