تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 96
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة الفاتحة سے متصف سمجھتا ہو۔عام ہندو اپنے دیوتاؤں کو کارخانہ ربوبیت میں شریک سمجھتے ہیں اور خدا کے کاموں میں ان کو مستقل طور پر دخیل قرار دیتے ہیں۔بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خدا کے ارادوں کو بدلنے والے اور اس کی تقدیروں کو زیر زبر کرنے والے ہیں۔اور نیز ہندو لوگ کئی انسانوں اور دوسرے جانوروں کی نسبت بلکہ بعض ناپاک اور نجاست خوار حیوانات یعنی خنزیر وغیرہ کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ کسی زمانہ میں ان کا پر میشر ایسی ایسی جونوں میں تولد پاکر ان تمام آلائشوں اور آلودگیوں سے ملوث ہوتا رہا ہے کہ جو ان چیزوں کے عائد حال ہیں اور نیز انہیں چیزوں کی طرح بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور خوف اور غم اور بیماری اور موت اور ذلت اور رسوائی اور عاجزی اور ناتوانی کی آفات میں گرفتار ہوتا رہا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ تمام اعتقادات خدائے تعالی کی خوبیوں میں بٹہ لگاتے ہیں اور اس کے ازلی و ابدی جاہ و جلال کو گھٹاتے ہیں اور آریہ سماج والے جو ان کے مہذب بھائی نکلے ہیں جن کا یہ گمان ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک وید کی لکیر پر چلتے ہیں۔وہ خدائے تعالیٰ کو خالقیت سے ہی جواب دیتے ہیں اور تمام روحوں کو اس کی ذات کامل کی طرح غیر مخلوق اور واجب الوجود اور موجود بوجود حقیقی قرار دیتے ہیں۔حالانکہ عقل سلیم خدائے تعالیٰ کی نسبت صریح بی نقص سمجھتی ہے کہ وہ دنیا کا مالک کہلا کر پھر کسی چیز کا رب اور خالق نہ ہو اور دنیا کی زندگی اس کے سہارے سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی وجوب کے رو سے ہو۔اور جب عقل سلیم کے آگے یہ دونوں سوال پیش کئے جائیں کہ آیا خداوند قادر مطلق کے محامد تامہ کے لئے یہ بات اصلح اور انسب ہے کہ وہ آپ ہی اپنی قدرت کاملہ سے تمام موجودات کو منصہ ظہور میں لاکر ان سب کا رب اور خالق ہو اور تمام کا ئنات کا سلسلہ اسی کی ربوبیت تک ختم ہوتا ہو اور خالقیت کی صفت اور قدرت اس کی ذات کامل میں موجود ہو اور پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہو یا یہ باتیں اس کی شان کے لائق ہیں کہ جس قدر مخلوقات اس کے قبضہ و تصرف میں ہیں یہ چیزیں اس کی مخلوق نہیں ہیں اور نہ اس کے سہارے سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور نہ اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہیں اور نہ وہ ان کا خالق اور رب ہے اور نہ خالقیت کی صفت اور قدرت اس میں پائی جاتی ہے اور نہ پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہے۔تو ہر گز عقل یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ جو دنیا کا مالک ہے وہ دنیا کا پیدا کنندہ نہیں اور ہزاروں پر حکمت صفتیں کہ جو روحوں اور جسموں میں پائی جاتی ہیں وہ خود بخود ہیں اور ان کا بنانے والا کوئی نہیں اور خدا جوان سب چیزوں کا مالک کہلاتا ہے وہ فرضی طور پر مالک ہے اور نہ یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے عاجز سمجھا جاوے یا نا طاقت اور ناقص ٹھہرایا جاوے یا پلیدی اور نجاست خواری کی -