تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة الفاتحة اور اسی کی طرف راجع ہیں کیونکہ جو خوبی مصنوع میں ہوتی ہے وہ حقیقت میں صانع کی ہی خوبی ہے یعنی آفتاب دنیا کو روشن نہیں کرتا حقیقت میں خدا ہی روشن کرتا ہے اور چاند رات کی تاریکی نہیں اٹھا تا حقیقت میں خدا ہی اٹھاتا ہے اور بادل پانی نہیں برساتا حقیقت میں خدا ہی برساتا ہے اسی طرح جو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی بینائی ہے اور جو کان سنتے ہیں وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی شنوائی ہے اور جو عقل دریافت کرتی ہے وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی دریافت ہے اور جو کچھ آسمان کے اور زمین کے عناصر اوصاف جمیلہ دکھا رہے ہیں اور ایک خوبصورتی اور تر و تازگی جو مشہود ہورہی ہے حقیقت میں وہ اسی صانع کی صفت ہے جس نے کمال اپنی صفت کا ملہ سے ان چیزوں کو پایا ہے اور پھر بنانے پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ ایک رحمت شامل رکھی ہے جس رحمت سے اس کا بقا اور وجود ہے اور پھر صرف اسی پر اختصار نہیں کیا بلکہ ایک چیز کو اپنے کمال اعلیٰ تک پہنچاتا ہے۔جس سے قدر و قیمت اس شے کی کھل جاتی ہے پس حقیقت میں محسن اور منعم بھی وہی ہے اور جامع تمام خوبیوں کا بھی وہی ہے اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۱ مؤرخه ۲۴/جون ۱۹۰۴ صفحه ۱۵) سورۃ الفاتحہ پر جو قرآن شریف کا باریک نقشہ ہے اور ام الکتاب بھی جس کا نام ہے خوب غور کرو کہ اس میں اجمال کے ساتھ قرآن کریم کے تمام معارف درج ہیں چنانچہ الْحَمْدُ لِلَّهِ سے اس کو شروع کیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ تمام محامد اللہ ہی کے لئے ہیں اس میں یہ تعلیم ہے کہ تمام منافع اور تمدنی زندگی کی ساری بہبود گیاں اللہ ہی کی طرف سے آتی ہیں کیونکہ ہر قسم کی ستائش کا سزاوار جب کہ وہی ہے تو معطی حقیقی بھی وہی ہو سکتا ہے۔ورنہ لازم آئے گا کہ کسی قسم کی تعریف و ستائش کا مستحق وہ نہیں بھی ہے جو کفر کی بات ہے پس اَلْحَمْدُ للہ میں کیسی تو حید کی جامع تعلیم پائی جاتی ہے جو انسان کو دنیا کی تمام چیزوں کی عبودیت اور بالذات نفع رساں نہ ہونے کی طرف لے جاتی ہے اور واضح اور بین طور پر یہ ذہن نشین کرتی ہے کہ ہر نفع اور شود حقیقی اور ذاتی طور پر خدا تعالی کی ہی طرف سے آتا ہے کیونکہ تمام محامد اُسی کے لئے سزاوار ہیں۔پس ہر نفع اور شود میں خدا تعالیٰ ہی کو مقدم کرو۔اُس کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے اگر خلاف ہو تو اولاد بھی دشمن ہوسکتی ہے اور ہو جاتی ہے۔الحکم نمبر ۳۲ جلد ۵ مؤرخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۱) بجز اسلام دنیا میں کوئی بھی ایسا مذ ہب نہیں ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو جمیع رزائل سے منزہ اور تمام محامد کا ملہ