تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 94

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة الفاتحة دائرہ نہایت تنگ ہے اور نیز جہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شاملِ حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفاتِ اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے جیسے بڑے بڑے گولے ستاروں کے دُور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفات اربعہ کا ہوگا۔اس لئے حقیقی اور کامل طور پر یوم الدین وہی ہوگا جو عالم معاد ہے۔اُس عالم میں ہر ایک صفت ان صفات اربعہ میں سے دو ہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی یعنی ظاہری طور پر اور باطنی طور پر اس لئے اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ صفتیں معلوم ہوں گی۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھار ہے ہیں اور اُس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے اس لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے۔اور جب آٹھ صفات کی تحلی ہو گی تو ان صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے۔اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیت کو ایسا اپنے پر لئے ہوئے ہیں کہ گویا اُس کو اُٹھا رہے ہیں اس لئے استعارہ کے طور پر اُٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ایسے استعارات لطیفہ خدا تعالی کی کلام میں بہت ہیں جن میں روحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ میں یہ چار آصفات عظیمہ ہیں جن پر ہر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہیے اور جو شخص دُعا کے ثمرات اور فیوض سے انکار کرتا ہے گویا وہ بجائے چار صفتوں کے صرف تین صفتوں کو مانتا ہے۔ایام اصبح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۷ تا ۲۵۲) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی تمام محامد اور تمام کمالات اور تمام تعریفیں اور تمام بزرگیاں اور خوبیاں جو مرتبہ جلیلہ خدائی کے لئے ضروری ہیں وہ سب اللہ جل شانہ کو حاصل اور اس کی ذات میں جمع ہیں جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی اور وہ تمام عالمین کا رب اور پیدا کنندہ ہے۔الصل سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۱۹،۲۱۸) اَلْحَمْدُ لِلّه سے قرآن شریف اسی لئے شروع کیا گیا ہے تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرف الحکم نمبر ۶ جلد ۵ مؤرخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۷) ایما ہو۔دو مظہر ہوئے۔حمد ہی سے محمد اور احمد نکلا ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے گویا حمد کے اور نکلا الحکم نمبر ۳ جلد ۵ مؤرخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳، ۴) تمام محامد جو عالم میں موجود ہیں اور مصنوعات میں پائی جاتی ہیں۔وہ حقیقت میں خدا کی ہی تعریفیں ہیں