تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة الفاتحة بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہنچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیا حالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ میں ان کو ہلاک کروں گا۔اب ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دُعا محض لغوا مر نہیں ہے اور نہ صرف ایسی عبادت جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خدا کی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں اور نہ قانونِ قدرت پر نظر ڈالتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دُعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔اس کا نام فیض رحیمیت ہے جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔اسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گو یا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیت کی بناء پر ہے۔خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بُرے آدمیوں کی شفاعت کریں۔چوتھا احسان خدا تعالی کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضانِ آحص سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفتِ رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دُعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جدو جہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔پس رحیمیت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یا وہ مرتبہ میٹر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پرتو و صفت مالکیت یوم الدین سے حاصل ہوتی ہے۔ان دونوں صفتوں رحیمیت اور مالکیت یوم الدین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے۔اور فیض مالکیت یوم الدین خدا تعالی کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیت یوم الدین اگر چہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متلی ہوگی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلی کر رہی ہیں۔ربوبیت عام طور پر ایک فیض کی بنا ڈالتی ہے اور رحمانیت اس فیض کو جانداروں میں گھلے طور پر دکھلاتی ہے اور رحیمیت ظاہر کرتی ہے کہ خط ممتد فیض کا انسان پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور انسان وہ جانور ہے جو فیض کو نہ صرف حال سے بلکہ منہ سے مانگتا ہے اور مالکیت یوم الدین فیض کا آخری شمرہ بخشتی ہے۔یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دنیا کا