تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 95
جاتے ہیں۔جب مخالفت اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو مومنوں کی عاجزانہ دُعائیں اللہ تعالیٰ کی نصرت کو آسمان سے کھینچ لاتی ہیں۔اور اُس کی قہری تجلی بڑ ے بڑے دشمنوں کو ہلاک کر دیتی ہے۔فرعون جب اپنے لائو لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کے تعاقب میں چلا آرہاتھا تو صرف چند منٹ پہلے وہ سمجھتا تھا کہ میں کامیاب ہوگیا۔اور بنی اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ ہم مارے گئے بلکہ خود انہوں نے چلّا چلّا کر یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اِنَّ لَمُدْ رَکُوْنَ اے موسیٰ ؑ ! ہم تو پکڑے گئے۔مگر موسیٰ ؑ جس کا اپنے خدا پر کامل ایمان تھا اُس نے کہا کَلَّا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ (الشعراء :۶۳) میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ میرے لئے اس بلائے عظیم سے نجات کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور پیدا کر دےگا۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد موسیٰ ؑ تو سمندر کے پار پہنچ چکے تھے اور فرعون اور اس کی فوجیں سمندر کی لہروں میں غوطے کھا رہی تھیں۔غرض مخالفت بھی اشاعتِ ہدایت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالی کا ہادی اور اُس کا نصیر ہونا بڑ ی شان سے ظاہر ہوتا ہے۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً اور کافروں نے کہا کیوںنہ قرآن اس (نبی) پر ایک ہی دفعہ نازل کر دیا گیا۔اُن کا کہنا بھی ایک طرح ٹھیک ہے وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ لیکن ہم نے اس کو مختلف سورتوں اور وقتوں میں اس لئے اُتار اکہ ہم اس (قرآن) کے ذریعہ سے تیرے دل کو مضبوط تَرْتِيْلًا۰۰۳۳وَ لَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ کرتے رہیں اور ہم نے اس کو نہایت عمدہ بنایا ہے۔اور (تیری تردیدکے لئے) وہ کوئی بات نہیں کہتے کہ ہم اس کے اَحْسَنَ تَفْسِيْرًاؕ۰۰۳۴ جواب میں ایک پختہ بات بیان نہیں کر دیتے اور اس کی اچھی سے اچھی توجیہہ نہیں کر دیتے۔حلّ لُغَات۔رَتَّلْنٰہُ :رَتَّلْنٰہُ رَتَّلَ الْکَلَامَ کے معنے ہیں اَحْسَنَ تَا لِیْفَہٗ اُس نے اپنے کلام یا مضمون کو نہایت عمدگی سے مرتب کیا اور رَتَّلَ الْقُراٰنَ کے معنے ہیں اُس نے قرآن کریم کی خوش آوازی سے تلاوت کی۔پس رَتَّلْنٰہُ کے معنے ہوںگے ہم نے قرآن کریم کی ترتیب نہایت اعلیٰ درجہ کی رکھی ہے۔