تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 90

مگر آج کل کے مسلمان بھی اس کے مخاطب ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتّی کہلانے کے باوجود قرآن کریم کو بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں۔وہ قرآن جو اُن کی ہدایت کے لئے آیا تھا اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ تک پہنچانےکے لئے آیا ہے اُس کو آج کل اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ زندگی بھر تو قرآن کا ایک لفظ بھی اُن کے کانوں میں نہیں پڑتا لیکن جب کوئی مر جائے تو اُس کو قرآن سنا یا جاتا ہے حالانکہ مرنے پر سوال تو یہ ہونا ہے کہ بتائو تم نے اس پر کیا عمل کیا نہ یہ کہ مرنے کے بعد تمہاری قبر پر کتنی بار قرآن ختم کیا گیا۔پھر ایک استعمال اس کا یہ ہے کہ ضرورت پڑے تو آٹھ آنے لے کر اُس کی جھوٹی قسم کھا لی جاتی ہے اور اس طرح اسے دوسروں کے حقوق دبانے کا ایک آلہ بنایا جاتا ہے۔تیسرے اس طرح کہ مُلّاں اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔جب کوئی مرجاتا ہے تو اُس کے وارث قرآن لاتے ہیں کہ اس ذریعہ سے اس کےگناہ بخشوائیں۔اور مُلّانے ایک حلقہ سا بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور قرآن ایک دوسرے کو پکڑ اتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے یہ تیری مِلک کی۔اس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ مُردہ کے گناہوں کا اسقاط ہو گیا مگر مردہ کے گناہوں کا کیا اسقاط ہونا ہےان ملانوں اور اس مردہ کے وارثوں کے ایمانوں کا اسقاط ہو جاتا ہے۔پھر ایک استعمال اس کا یہ ہے کہ مُلانے آٹھ آٹھ آنے کے قرآن لے آتے ہیں اور جب کسی کے ہاں کوئی مر جاتا ہے اور وہ قرآن لینے آتا ہے تو اُسے بہت سی قیمت بتا دی جاتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ یہ تو ایک روپیہ سے بھی کم قیمت کا ہے تو ملّاں صاحب کہتے ہیں۔قرآن کیا سستے داموں بِک سکتا ہے۔تھوڑی قیمت پر تو اس کا بیچنا منع ہے خود قرآن میں آتا ہے لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ( بقرہ :۴۲) کہ میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی قیمت مت لو۔اس لئے اس کی تھوڑی قیمت نہیں لی جا سکتی۔مگر وہ نادان نہیں جانتے کہ قرآن نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ ( النساء :۷۸ ) کہ دنیا کا سب مال و متاع ایک حقیر چیز ہے۔پھر کسی دنیوی چیز کے بدلہ میں اسے بیچنا کس طرح جائز ہوا ؟ دراصل اس آیت میں ثَمَنًا قَلِیْلًا کے یہ معنے ہیں کہ دنیا کے بدلے اسے نہ بیچو۔نہ یہ کہ تھوڑی قیمت نہ لو۔پھر ایک استعمال اس کا یہ رہ گیا ہے کہ اسے عمدہ غلاف میں لپیٹ کر دیوار سے لٹکا دیتے ہیں۔پھر ایک استعمال اس کا یہ ہے کہ جز دان میں ڈال کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں تاکہ عوام سمجھیں کہ بڑے بزرگ اور پارسا ہیں ہر وقت قرآن پاس رکھتے ہیں۔غرض آج ’’ مسلمانان درگور و مسلمانی در کتاب ‘‘ والی بات نظر آتی ہے۔اسلام کا نشان صرف قرآن کریم اور احادیث ِ صحیحہ اور کتبِ ائمہ میں ملتا ہے اس کا نشان لوگوں کی زندگیوں میں کہیں نہیں ملتا۔پچھتّر فیصدی مسلمان نماز کے تارک ہیں۔زکوٰۃ اوّل تو دیتے ہی نہیں اور جو دیتے ہیں اُن میں سے جو اپنی خوشی سے دیتے ہیں وہ شاید سو میں سے دو نکلیں۔حج جن پر فرض ہے وہ اس کا نام نہیں لیتے اور جن کے لئے نہ صرف یہ کہ فرض