تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 89
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ اور رسول نے کہا۔اے میرے رب !میری قوم نے تو اس قرآ ن کو مَهْجُوْرًا۰۰۳۱ پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔حلّ لُغَات۔مَھْجُوْرًا مھجورًاھَجَرَ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے اور ھَجَرَہٗ کے معنے ہیں تَرَکَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْہُ اس کو چھوڑ دیا اور اس سے منہ موڑ لیا ( اقرب) مفردات میں ہے۔اَلْھَجْرُ وَالْھِجْرَانُ مُفَارَقَۃُ الْاِنْسَانِ غَیْرَہٗ اِمَّا بِالْبَدَنِ أَوْ بِاللِّسَانِ اَوْ بِالْقَلْبِ کہ کسی سے انسان بدنی لحاظ سے علیحدہ ہو جائے اور مفارقت اختیار کرے یا اس سے کلام نہ کرے یا دلی لگائو اس کے ساتھ نہ رکھے تو اس وقت ھَجَرکا لفظ بولتے ہیں۔وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی اِنَّ قَوْمیِ اتَّخَذُوْ اھٰذَا لْقُراٰنَ مَھْجُوْرًا فَھٰذَا ھَجْرٌ بِا لْقَلْبِ اور آیت قرآنیہ میں جو آیا ہے کہ رسول اللہ فرمائیں گے کہ میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا دلی لگائو اس کے ساتھ نہیں رہےگا۔( مفردات ) تفسیر۔فرماتا ہے۔قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حضور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ خدایا میری قوم نے تیرے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا۔اور اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا۔یہ ایک نہایت مختصر سا فقرہ ہے مگر اس میں ایسا درد بھرا ہوا ہے کہ یہ میرے سامنے کبھی نہیں آیا کہ میرا دل اس کو پڑھ کر کانپ نہ گیا ہو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ اے میرے رب ! میری قوم نے قرآن کو بالکل ترک کر دیا حالانکہ یہ کہنا بھی کافی تھا۔بلکہ فرماتے ہیں۔اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا یہاں ھٰذَا کا لفظ بہت ہی درد اور افسوس کو ظاہر کر ر ہا ہے فرماتے ہیں۔خدایا تُو نے میری قوم کو یہ ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی نعمت دی تھی اور ایسی بابرکت کتاب بخشی تھی کہ جس کی دنیا میں اور کوئی مثال نہ تھی۔مگر میری قوم نے اس کو بھی چھوڑ دیا۔دنیا میں دھیلے دمڑی کی چیز کو تو کوئی چھوڑ تا نہیں لیکن ایسے قرآن کو جس کے مقابل میں ساری دنیا کا مال و متاع بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتا چھوڑ دیا گیا اور اسے پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا گیا۔اس جگہ قوم کے مصداق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے آپ کو نہ مانا۔