تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 88

جس میں تمام آسمانی کتابوں کی خوبیاں جمع کر دی گئی ہیں اور جس کو ہم نے اپنی خاص حکمتوں کے ماتحت نازل کیا ہے۔کیا تم اس عظیم الشان کتاب کے منکر ہو ؟ پھر فرماتا ہے۔وَاِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ( الزخرف:۴۵ ) یہ قرآن تیرے اور تیری تمام قوم کے لئے شرف کا موجب ہے۔یعنی جو لوگ اس کتاب پر عمل کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں بڑی عظمت اور بزرگی عطا فرمائےگا۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ۔لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ ( حٰم السجد ۃ :۴۲،۴۳) وہ لوگ جنہوں نے اس ذکر یعنی قرآن کریم کا انکار کیا جبکہ وہ اُن کے پاس آیا حالانکہ وہ بڑی عزت والی کتاب ہے وہ اپنی تباہی کا اپنے ہاتھوں سامان کر رہے ہیں۔یہ کتاب وہ ہے کہ نہ باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے اور بڑی حکمتوں اور تعریفوں والے خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ایسی عظیم الشان اور با برکت کتاب جو انسانیت کے لئے شرف کا باعث ہے اور جس کی پیش کردہ سچائیوں کو نہ سابق علوم غلط ثابت کر سکے ہیں اور نہ موجودہ زمانہ کے علوم اس کی کسی بات کو غلط قرار دے سکے ہیں۔اس سے اگر کوئی شخص اعراض کرتا ہے تو وہ یقیناً اپنی ہلاکت اور بر بادی اپنے ہاتھوں مول لیتا ہے۔یہ کتاب خدا تعالیٰ نے اس لئے نازل کی ہے کہ بنی نوع انسان اسے پڑھیں۔اس کے علوم کو سیکھیں۔اپنے اہل و عیال کو سکھائیں۔اور پھر تمام دنیا میں اُسے پھیلاتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ دنیا کے چپہ چپہ پر خدائے واحد کی حکومت قائم ہو جائے اور اسود و احمر تک خدا تعالیٰ کا نام اور اس کا پیغام پہنچ جائے۔جو لوگ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنا لیں گے وہ دنیا میں بھی سر بلند ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث ہوںگے۔مگر وہ لوگ جو اُسے پس پشت پھینک دیں گے وہ عذاب کے وقت اپنے بُرے ساتھیوں اور ہم نشینوں پر لعنتیں ڈالیں گے جو اُن کی گمراہی کا باعث ہے مگر اُس وقت نہ اُن کا افسوس ان کے کسی کام آئے گا اور نہ ان کا اپنے ساتھیوں پر لعنتیں ڈالنا انہیں کسی عذاب سے بچا سکے گا۔کیونکہ اس کے نتیجہ کی ذمہ داری خود اُن پر ہوگی۔کسی اور پر نہیں۔