تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 87

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تباہیوں کے اسباب اور بواعث کا ذکر کرتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی وجہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔وہ پہلے تو اپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ تا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہلَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا اے کاش ! میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا۔اُس نے تو مجھے گمراہ کر دیا اسی وجہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو یہ خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ کُوْنُوْ ا مَعَ الصَّادِقِیْنَ ( التوبۃ :۱۱۹) یعنی اے مومنو ! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردو پیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے لئے اُن لوگوں کا انتخاب کر ے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوںگے اور جن کا مطمح نظر بلند ہو گا تو لازمًا وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دُور کر نے کی کوشش کرےگا اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اُس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔لیکن اگر وہ برے ساتھیوںکا انتخاب کرے گا تو وہ اُسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے بلکہ اُسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہو ںگے۔حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ ایک سکھ طالب علم نے جو گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا اور آپ سے عقیدت اور اخلاص رکھتا تھا کہلا بھیجا کہ پہلے تو مجھے خدا تعالیٰ کی ہستی پر بڑا یقین تھا مگر اب کچھ عرصہ سے مجھے شکوک پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے ان شکوک کو دُور فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُسے کہلا بھیجا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی شخص دہریت کے خیالات اپنے اندر رکھتا ہے جس کا تم پر اثر پڑ رہا ہے۔تم کالج میں جس جگہ بیٹھا کرتے ہو اُس جگہ کو بدل لو چنانچہ اُس نے اپنی سیٹ بدل لی اور کچھ دنوں کے بعد اُس کے خیالات کی خود بخود اصلاح ہو گئی (حقائق الفرقان جلد ۳ صفحہ ۳۲۰ سورۃ القصص)۔اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ بُرے ساتھیوں کا انسان پر کتنا بُرا اثر پڑتا ہے۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس کسی مجلس میں تشریف رکھتے تھے تو بڑی کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے تاکہ کوئی بری تحریک آپ کے قلبِ مطہر پر اثر انداز نہ ہو۔لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْ میں اَلذِّکْرِ سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے عمل کے لئے نازل فرمایا ہے اور اس کا ایک نام الذکر بھی رکھا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الحجر :۱۰ ) ہم نے ہی اس ذکر یعنی قرآن کریم کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اسی طرح فرماتا ہے وَھٰذَا ذِکْرٌ مُّبَارَکٌ اَنْزَلْنٰہُ اَفَاَنْتُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ (الانبیاء:۵۱) یہ قرآن ایک ایسا نصیحت نامہ ہے