تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 86
ابوجہل اور دوسرے سردارانِ قریش کو جو مسلمانوں کے ہاتھوں نہایت ذلّت کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے۔سر کے بالوں سے گھسیٹ کر ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا اور لات ومناۃ اور ہبل کے پجاری خدائے واحد کی قہری تلوار کا نشانہ بن گئے۔پھر فرماتا ہے۔وَ كَانَ يَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا۔یہ دن کفارکے لئے بڑا سخت اور عبرت ناک ہوگا۔چنانچہ دیکھ لو ابھی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ عتبہ اور شیبہ اور ولید حضرت حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے ہاتھوں خاک و خون میں تڑپنے لگے۔اور پھر جنگ ختم ہوئی اور کفار میدان چھوڑ کر بھاگے تو ابوجہل نے مرتے وقت کس حسرت سے کہا کہ لَوْ غَیْرَ اَکَّارٍ قَتَلَنِیْ (بخاری کتاب المغازی باب شھود الملائکة بدراً)یعنی اے کاش میں کسی کسان کے ہاتھ سے قتل نہ ہوتا۔ان الفاظ سے اُس کا اشارہ مدینہ کے اُن دو نوجوان لڑکوں کی طرف تھا جنہوں نے باز کی طرح اُس پر حملہ کیا اور جنگ کے شروع ہوتے ہی اُسے زخمی کر کے گِرا دیا۔چونکہ مکہ والے انصار کو بہت ذلیل سمجھتے تھے کیونکہ ان کاکام صرف زراعت کرنا اور سبزی ترکاری بیچنا تھا۔اس لئے جب ابوجہل دو انصاری لڑکوں کے ہاتھ سے مارا گیا تو اُس نے بڑی حسرت سے کہا کہ کاش کسی معزز آدمی کے ہاتھ سے میری موت ہوتی مجھے صدمہ ہے کہ دو کسان لڑکوں نے مجھے مار ڈالا غرض کفارکے لئے یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے اُن کے تمام کبرو غرور کو خاک میں ملاد یا۔اور یسعیاہ نبی کی اُس پیشگوئی کو بھی روزِ روشن کی طرح سچا ثابت کر دیا کہ ’’ عرب کے صحراء میں تم رات کو کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو ! پانی لے کے پیا سے کا استقبال کرنے آئو۔اے تیماکی سرزمین کے باشندو ! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا کہ ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔‘‘ ( یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۱۷ ) اس پیشگوئی میں یسعیاہ نبی نے جنگ ِ بدر کی خبر دیتے ہوئے بتا یا تھا کہ ہجرت مدینہ پر ٹھیک ایک سال گذرنے پر عرب میں ایک ایسی جنگ ہوگی جس سے قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور وہ پیٹھ دکھاتے ہوئے میدان جنگ سے بھاگ کھڑ ے ہوںگے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کفار اپنے بڑے بڑے جر نیلوں کی لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ گئے اور مسلمانوں کی تمام عر ب پر دھاک بیٹھ گئی۔