تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 85
جس پر بھی تلوار چلاتے تھے وہ فورًا کٹ کردو ٹکڑے ہو جاتا تھا۔پس ہمارا مقابلہ آدمیوں سے نہیں تھا بلکہ جنات سے تھا۔چنانچہ باوجود کثرت اور سازو سامان کے وہ اس تائید الٰہی کی وجہ سے شکست کھا گئے۔پھر فرشتوں کا نزول اس رنگ میں بھی ہوا کہ اِدھر لڑائی ہو رہی تھی اور اُدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حضور سجد ہ میں گِر کر دعائیں فرما رہے تھے۔بہت دیر کے بعد آپ ؐ نے سجدہ سے اپنا سر اُٹھایا اور پھر خیمہ سے باہر تشریف لاکر آپؐ نے ریت اور کنکروں کی ایک مٹھی اُٹھائی اور انہیں زور سے کفار کی طرف پھینکا اور بڑے جوش سے فرمایا شَاھَتِ الْوُجُوْہُ یعنی دشمنوں کے مُنہ کا لے ہو گئے اور ساتھ ہی آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ یکدم حملہ کردو۔آپ کا اُن کی طرف مٹھی بھر کنکر پھینکنا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس زور سے آندھی چلائی کہ کفار کی آنکھیں اور مُنہ ریت اور کنکروں سے بھر گئے۔اور کفار کے لشکر میں بھاگڑ مچ گئی اور آن کی آن میں میدان صاف ہوگیا۔آپؐ نے اُن کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر فرمایا۔یہ فرشتوں کی فوج تھی جو خدا نے ہماری مددکے لئے نازل فرمائی تھی (بخاری کتاب المغازی باب قصۃ غزوۃ بدر)۔خود قرآن کریم نے بھی ایک مقام پر اس نشان کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (الانفال :۱۸) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ ! جب بدر کے میدان میں کفار کی طرف تونے مٹھی بھر کنکر پھینکے تھے تو اُس وقت تُو نے کنکر نہیں پھینکے بلکہ ہم نے پھینکے تھے اور صحابہ ؓ کے متعلق فرماتا ہے کہ فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ(الانفال :۱۸) یعنی تم نے ان کفار کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو قتل کیا ہے۔یعنی ظاہر میں تو تمہارے ہاتھوں نے تلوار چلائی اور ظاہر میں تمہارے ہاتھوں سے کفار اپنے کیفر کردار کو پہنچے مگر تم بھی جانتے ہو اور دنیا بھی جانتی ہے کہ تمہاری تلواروں میں یہ طاقت نہیں تھی کہ تم اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکتے۔تمہارا تجربہ ان سے کم تھا۔تمہاری طاقت ان سے کم تھی۔تمہارے سامان ان سے کم تھے۔مگر اس کے باوجود جو تمہیں غلبہ نصیب ہوا اور تم نے کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک و خون میں لوٹا دیا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہاری پشت پر خدائی ہاتھ تھا اور اُس کے فرشتوں کی فوج تمہاری تائید میں نازل ہو رہی تھی۔پھر فرماتا ہے۔اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ اُس دن بادشاہت سچ مچ خدائے رحمٰن کے قبضہ میں نظر آئےگی کیونکہ اُس دن خدائے رحمٰن کی وہ بات پوری ہوئی جو اُس نے سالہا سال پہلے مکہ میںسنا دی تھی کہ لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ۔نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (العلق : ۱۶، ۱۷) اگر یہ کفار اسلام کی مخالفت سے باز نہ آئے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کو جن کی پیشانی ہمیشہ خدائے واحد کے آستانہ پر جھکی رہتی ہے اسی طرح مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتےرہے تو وہ یاد رکھیں کہ ہم بھی ایک دن اُن کی جھوٹی اور خطا کار پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر نہایت سختی کے ساتھ گھسیٹیںگے۔چنانچہ جب بدر کی جنگ ختم ہوئی تو