تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 84

ھٰذِہٖ مَکَّۃُ قَدْ اَلْقَتْ اِلَیْکُمْ أَفْلَاذَ کَبِدِھَا(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام رویا عاتکۃ بنت عبد المطلب) یعنی لو مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے نکا ل کر تمہاری طرف پھینک دئے ہیں۔مگر چونکہ کفّار کا لشکر وادیٔ بدر میں مسلمانوں کے لشکر سے پہلے پہنچ چکا تھا۔اس لئے اُس نے اپنے لئے ایسی جگہ منتخب کر لی جہاں پانی اور گھاس کی کثرت تھی اور جس کی زمین چکنی اور ہموار تھی اور مسلمانوں کو ریت کے ایک ٹیلے پر اُترنا پڑا۔جہاں نہ تو پانی با فراط مل سکتا تھا اور نہ جانوروںکے لئے گھاس کا کوئی انتظام تھا۔کفار نے پختہ زمین کا انتخاب اپنے لئے اس لئے کیا تھا کہ لڑائی کی صورت میں جنگی حرکات اُس میں آسانی سے ہو سکیں گی۔اور مسلمانوںکے لئے ریتلا میدان اس لئے چھوڑا گیا تھا کہ جنگ کے وقت اُن کے پائوں ریت میں دھنس دھنس جائیں گے اور اُن کے لئے لڑنا مشکل ہو جائےگا۔مگر وہ خدا جس نے یہ خبر دے رکھی تھی کہ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ اُس نے راتوں رات جنگ کا اس طرح پانسہ پلٹا کہ خوب بارش ہوئی۔جس کے نتیجہ میں ایک تو مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر پانی جمع کر لیا اور پھر اُس کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بارش کی وجہ سے ریتلا میدان ایک جما ہوا پختہ میدان بن گیا اور کفار کا پختہ میدان پھسلویں زمین بن گیا۔اور اُس کے سپاہیوں اور گھوڑوںکے لئے مسلمانوں کا جم کر مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تائیدکے لئے اپنے ملائکہ بھی نازل فرمائے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الہامًا بھی دے دی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ۠ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ ( الانفال :۱۰)یعنی اُس وقت کو یا دکرو جبکہ تم اپنے رب سے التجائیں کرتے تھے کہ وہ تمہاری مددکے لئے آسمان سے اُترے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری دُعائوں کو سُنا اور اُس نے تمہیں بشارت دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروںگا جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہوگا۔چنانچہ مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے والے لشکر کی تعدا د بھی ایک ہزار تھی اور مسلمان صرف ۳۱۳ تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کی خبر دی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی فرشتے تھے جو ہر انسان کے ساتھ مقرر ہوتے ہیں۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کا کفار سے مقابلہ ہوا تو باوجود اس کے کہ صحابہ ؓ ۳۱۳ تھے اور پھر وہ نہتے اور ناتجربہ کار تھے اللہ تعالیٰ نے ہر کافر کے دل میں اُس فرشتے کے ذریعہ جو اُس پر مقرر تھا رعب ڈالنا شروع کیا کہ مقابلہ کیا تو مارے جائو گے۔بلکہ بعض کفار کو جیسا کہ روایات سے ثابت ہے کشفی حالت میں یہ فرشتے نظر بھی آئے۔چنانچہ جب بدر کی جنگ میں کفار مسلمانوں کے مقابلہ میں بھاگ نکلے تو بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم نے کیسی بزدلی دکھا ئی ہے۔انہوں نے کہا تمہیں کیا پتہ اس جنگ میں سفید ابلق گھوڑوں پر کوئی عجیب قسم کی مخلوق سوار تھی۔تلواریں اُن کے ہاتھ میں تھیں اور وہ