تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 83
السَّمَآءُ۔ایک دن آنے والا ہے جبکہ آسمان پھٹ جائےگا۔آسمان کے پھٹنے کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ عذاب نازل ہو جائے۔گویا رحمت اور عذاب دونوںکے لئے آسمان پھٹ جانے کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ( الانبیاء :۳۱)یعنی کیا کفار اس امر پر غور نہیں کرتے کہ آسمان او ر زمین دونوں بند تھے۔نہ آسمان سے برکاتِ الٰہیہ کا نزول ہو رہا تھا اور نہ زمین اپنی مخفی طاقتوں کو ظاہر کر رہی تھی مگر پھر ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر ان دونوں کو پھاڑ دیا۔اور کلامِ الٰہی سے ہم نے ہر چیز کو زندہ کر دیا۔اس جگہ آسمان کے پھٹنے سے رحمتِ الٰہی کی بارش بر سنا مراد ہے لیکن دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا۔اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا(مریم :۹۱،۹۲) یعنی قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گِر جائیں اس لئے کہ عیسائیوں نے خدائے رحمٰن کا ایک بیٹا بنا لیا ہے۔اس جگہ آسمان کے پھٹنے سے مراد آسمان سے بلائوں اور آفات کا نزول ہے یعنی قریب ہے کہ آسمان اپنی بلائوں اور آفات کا مُنہ ان کے لئے کھول دے اور انہیں خطرناک عذابوں سے گھیر لے اس لئے کہ انہوں نے ایک انسان کو خدائے رحمٰن کا بیٹا قرار دے دیا ہے۔زیرِ تفسیر آیات میں بھیيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ سے مرا د عذابِ الٰہی کا نزول ہے کیونکہ اس کے معاً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ كَانَ يَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا وہ دن کافروںکے لئے بڑا سخت ہوگا۔اگر یہاں آسمان کے پھٹنے سے رحمتِ الٰہی کا نزول مُراد ہوتا تو کفار کی ناکامیوں اور اُن کی حسرتوں کا ذکر نہ کیا جاتا۔اُس دن کی ایک بڑی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ اُس دن بادل ہی بادل ظاہر ہو جائیں گے یعنی آسمان سے خوب بارش برسے گی۔اور دوسری علامت یہ بتائی کہ اُس دن اللہ تعالیٰ کے ملائکہ کفّار کو عذاب دینےکے لئے بڑی کثرت کے ساتھ اُتار ے جائیں گے اسی طرح یہ بھی بتا یا کہ اُس دن خدائے رحمٰن کی حکومت قائم ہو جائےگی اور کفّار اپنی ہلاکت اور بر بادی سے چیخ اٹھیں گے۔یہ عذاب جیسا کہ تاریخی واقعات سے ظاہر ہے کفّار مکہ پر جنگِ بدر کی صورت میں آیا۔جسے قرآن کریم نے یوم الفرقان بھی قرار دیا ہے ( انفال ع ۵) یہی وہ دن تھا جس میں اللہ تعالیٰ کفّار کے بڑے بڑے عمائد کو مکّہ سے نکال کر بدر کے میدان میں لایا۔اور انہیں چند کمزور اور بے سامان مسلمانوں کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنا دیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل اور عقبہ بن ابی معیط اور امیّہ بن خلف اور نضر بن حارث اور دوسرے تمام سردار ایک ایک کرکے بدر کے میدان میں آچکے ہیں تو آپ نے صحابہ ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ