تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 68
وَقَوْمٌ بُوْرٌ۔یعنی ہلاک ہونے والی عورت اور ہلاک ہونے والی قوم ( اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے۔کفار کو جب اُن کے معبودوں سمیت اٹھا یا جائے گا تو ان معبودوں سے پوچھا جائےگا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی گمراہ ہو گئے تھے ؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ اے خدا تُو پاک ہے۔ہماری کیا مجال تھی کہ ہم تیرے سوا اور معبود بنا لیتے۔بات یہ ہے کہ تُو نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا کی نعماء سے متمتع کیا اور انہیں مال و دولت کی اس قدر فراوانی بخشی کہ انہوں نے تیری ہدایت بھلا دی اور برباد ہونے والی قوم بن گئے۔پھر کہا جائےگا کہ اے مشرکو ! جو کچھ تم کہتے تھے اُس کو خود تمہارے معبودوں نے جھٹلادیا ہے۔پس آج نہ تو تم اس عذاب سے بچ سکتے ہو اور نہ کسی قسم کی مدد حاصل کر سکتے ہو۔اور ہمارے اس قاعدہ کو یاد رکھو کہ جو ظلم کرتا ہے اُسے سخت عذاب پہنچتا ہے۔ان آیا ت میں جن معبودانِ باطلہ کا ذکر کیا گیا ہے اُن سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ فرستادے ہیں جن کو اُن کی اُمتوں نے بعد میں اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کا شریک قرار دے دیا اور وہ اُن کی پرستش کرنے لگ گئے۔جیسے حضرت مسیح ناصری ہیں کہ وہ ساری عمر اپنے آپ کو ابن آدم کہتے رہے مگر عیسائیوں نے اُن کو خدا کا بیٹا بنا لیا اور اُن کی الوہیت کا عقیدہ دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا۔اسی طرح ہندو حضرت رام اور کرشن کی پرستش کرتے ہیں۔حالانکہ یہ دونوں بزرگ اللہ تعالیٰ کے مقدس فرستادے تھے جو ہندو قوم کی ہدایت کے لئے بھارت میں مبعوث ہوئے تھے۔اسی گروہ میں حضرت سیّد عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں جن سے قادری طریق کے پیرو دعائیں مانگتے اور اُن کو مردوں کو زندہ کرنے والا قرار دیتے ہیں۔اور اُن کے متعلق عجیب و غریب قصے اور حکایات جُہلا میں مشہور کرتے رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کے کسی مرید نے ایک دفعہ اُن کی دعوت کی اور مرغ پکا کر سامنے رکھا۔جب وہ کھا چکے تو ایک ہمسائی آئی اور کہنے لگی حضور یہ تو میرا مرغ تھا جو اس طرف کو آگیا تھا اور اس شخص نے ذبح کر کے آپ کو کھلا دیا۔اب میں کیا کروں۔انہوں نے کہا گھبرانے کی کیا بات ہے۔مرغ کی تمام ہڈیاں جمع کرو چنانچہ اُس کی ہڈیاں جمع کی گئیں اور انہو ں نے ہاتھ میں پکڑ کر اُن کو دبا یا تو وہ کُڑ کُڑ کرتا ہوا مرغ بن گیا اور وہ عورت اُسے اٹھا کر اپنے گھر لے گئی۔اسی طرح کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی ؒ کے پاس اُن کا ایک مرید آیا اور کہنے لگا۔حضور میرا بیٹا بیمار ہے۔دُعا کریں کہ وہ اچھا ہو جائے۔انہوں نے کہا بہت اچھا ! ہم دعا کریں گے وہ ٹھیک ہو جائےگا۔مگر وہ مر گیا اس پر وہ پھر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔حضورمیرا بیٹا تو مر گیا۔کہنے لگے ہیں مر گیا ! اب عزرائیل میں بھی اتنی جرأت ہو گئی ہے کہ وہ میرے حکم کی خلاف ورزی کرے۔انہوں نے اُس