تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 67

دےگا جن کے پہلے مسلمان وارث ہوئے۔اور انہیں اس جنت میں داخل کر دےگا جس سے وہ اپنی نا فر مانیوں کی وجہ سے نکالے گئے تھے۔وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ اور جب وہ ان کو اور اُن کے جھوٹے معبودوں کو اپنے حضور میں کھڑا کر ے گا اور پھر اُن سے کہے گا کیا تم نے ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ آپ ہی سیدھے راستہ سے بھٹک گئے تھے۔(تب) وہ جواب دیں گے تو السَّبِيْلَؕ۰۰۱۸قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ پاک ہے ہمیں کوئی حق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا اور ہستیوں کو اپنا کار ساز بناتے لیکن تُو نے اُن لوگوں کو اور مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى ان کے باپ دادوں کو دنیوی متاع بخشے یہاں تک کہ انہوں نے تیری یاد کو تر ک کر دیا۔اور ہلاک ہونےوالی نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا۰۰۱۹فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ قوم بن گئے پس( کفار سے کہا جائےگا کہ دیکھ لو) ان جھوٹے معبودوں نے تمہاری باتوں کو جھٹلادیا ہے بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ۠ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ پس آج تم نہ تو عذاب کو ہٹا سکتے ہو اور نہ کوئی مدد حاصل کر سکتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ظالم ہے مَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا۰۰۲۰ ہم اُسے بڑا عذاب پہنچائیں گے۔حلّ لُغَات۔بُوْرًا۔اَلْبُوْرُ : اَلرَّجُلُ الْفَاسِدُ وَالْھَالِکُ لَا خَیْرَ فِیْہِ۔ایسا آدمی جو خراب و خستہ ہو اور ہلاک ہونے والا ہو۔یہ لفظ جمع اور مفرد دونوں کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے۔یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِمْرَأۃٌ بُوْرٌ