تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 66

میں ہی عرب اور ایران اور روم اور مصر اور شام وغیرہ اسلامی ضرب کی تاب نہ لاکر سرنگوں ہوگئے اور فاقہ کش مزدور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی برکت سے دنیا کے بادشاہ بن گئے اور پھر انہوں نے وہ نظام قائم کر کے دکھلا دیا جو اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔ابتدائی ایّام میں تو مکہ کے بُت پرست مسلمانوں کو کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرنے دیتے تھے۔انہیں چھپ چھپ کر نمازیں پڑھنی پڑتی تھیں اور مخفی طور پر ایک دوسرے سے تعلقات رکھنے پڑتے تھے۔اسی طرح تعلیم اور تبلیغ کی انہیں کوئی آزادی میسر نہیں تھی۔بلکہ اگر کوئی ہدایت کا طالب کبھی مکہ میں آجاتا تو اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامکان تلاش کرنے میں بھی بڑی دقّت پیش آتی اور لوگ اُسے آپ کے گھر کا پتہ بھی نہ بتاتے۔مگر پھر وہ وقت آیا کہ مسلمان دنیا کا حاکم اور بادشاہ بن گیا اور اُس کی طاقت سے بڑی بڑی حکومتیں لرزنے لگیں۔اُس وقت جو کچھ وہ کرنا چاہتا تھا کسی کی مجال نہیں تھی کہ اُس میں رخنہ اندازی کر سکتا کیونکہ اُس زمانہ میں مسلمان ہی قوتِ فعال تھا اور مسلمان کی مٹی میں ہی دنیا کی طنابیں تھیں۔مگر افسوس کہ بعد میں مسلمانوں نے اپنی بد اعمالی سے اس جنت کو کھو دیا اور وہ ذلیل اور رسوا ہو گئے۔انہوں نے سمجھا کہ محض مسلمان کہلانے کی وجہ سے یہ جنت انہیں دائمی طور پر دے دی گئی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جہاں بھی جنت کا وعدہ کیا تھا وہاں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ اُسے مشروط کیا تھا۔بلکہ یہاں بھی اُس نے كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا فرما کر اس کے وعدہ ہونے پر پھر زور دیا ہے اور بتا یا ہے کہ ہمارا یہ وعدہ تمہارے ایمان اور عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر تمہارے اندر ایمان نہ رہا اور عمل صالح پر تم قائم نہ رہے تو یہ وعدہ بھی قائم نہیں رہے گا۔اسی کی طرف تَبٰرَكَ الَّذِيْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ میں اِنْ شَآ ئَ کے الفاظ رکھ کر اشارہ کیا گیا تھا اور مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی تھی کہ بے شک یہ جنت تمہیں ملے گی۔مگر اس میں تمہارے کسی استحقاق یا زور ِ بازو کا دخل نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشئیت کا دخل ہوگا۔یعنی اگر اس نے تمہارے اعمال کو اس انعام کے قابل سمجھا تو وہ تمہیںاس انعام سے سرفراز فرما دے گا اور اگر اُس نے تمہارے اعمال کو اس انعام کے قابل نہ سمجھا تو وہ یہ نعمت تم سے واپس لے لے گا۔چنانچہ جب تک مسلمان ایمان اور عمل صالح پر قائم رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا۔اور وہ صدیوں دنیاپر حکمرانی کرتے رہے۔لیکن جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھُلا دیا اور عیش و عشرت میں مشغول ہوگئے اللہ تعالیٰ نے بھی اُن سے اپنا تعلق منقطع کر لیا اور انہیں ان جنات سے محروم کر دیا۔پس اصل چیز جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ ایمان اور عمل صالح ہے۔آج بھی اگر مسلمان اپنے اندر تغیر پیدا کریں اور خدا اور اس کے رسول کی سچے دل سے پیروی کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں ان نعمتوں کا وارث کر