تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 65
نجات ملتی جو اب اُن کے گلے کا ہار بنی رہتی ہے۔طلاق ، خلع ، نکاح بیوگان اور ورثہ وغیرہ مسائل میں جب مشکلات اُن کا احاطہ کرتی ہیں اور تمدنی خرابیاں اُن کو الجھنوں میں ڈالتی ہیں تو وہ اسلامی تعلیم کی فوقیت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔میور اسلام کا شدید ترین دشمن ہے مگر وہ بھی قرآن کریم اور بائیبل کا مقابلہ کرتے ہوئے ’’ لائف آف محمد ؐ ‘‘ میں ایک جگہ بڑی حسرت کے ساتھ لکھتا ہے کہ ’’ مسلمانوں کی بالکل پاک اور غیر تبدیل شدہ کتاب اور ہماری کتب کے مختلف نسخوں کے باہمی اختلاف کا آپس میں مقابلہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ دو ایسی چیزوں کا مقابلہ کیا جائے جن میں باہم کوئی بھی مشابہت نہ ہو۔‘‘ ( لائف آف محمد ؐ مصنفہ سر ولیم میور ) غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا انکار کرنے والوںکے لئے خدا تعالیٰ نے آگ کا عذاب تیار کیا ہوا ہے جس کے شعلے اُن کو ہر وقت جلاتے رہتے ہیں اور جب اسلام کو کوئی ترقی نصیب ہوتی ہے اُن کے دلوں کی یہ آگ اور بھی تیز ہوجا تی ہے۔قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تو اُن سے کہہ دے کہ یہ( انجام) بہتر ہے یا دائمی جنت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔وہ اُن کا (صحیح صحیح) بدلہ اور كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِيْرًا۰۰۱۶لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ آخری ٹھکانہ ہوگی۔انہیں اس میں جو کچھ چاہیں گے ملےگا۔وہ اُس میں ہمیشہ کے لئے بستے چلے جائیں گے۔خٰلِدِيْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا۰۰۱۷ یہ ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا تیرے رب پر واجب ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تو ان کفار سے کہہ دے کہ کیا تمہارا یہ انجام بہتر ہے یا وہ جنت بہتر ہے جس کا ان متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔یہ جنت اُن کی پوری جزاء اور ٹھکانہ ہو گی اور اس جنت میں وہ جو کچھ چاہیں گے اُن کو ملے گا اور وہ اُس میں رہتے چلے جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا وعدہ ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔ہر شخص جو تاریخ اسلام سے معمولی واقفیت بھی رکھتا ہے جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کس شان سے پورا ہوا اور کس طرح چند سالوں