تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 64

اونچی کر سکتے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ واَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ والی آیت ہماری کتاب میں موجود ہوتی تو ہم اس آیت کے نزول کے دن کو اپنے لئے عید کا دن مقرر کرتے۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا تم تو ایک دن عید مناتے لیکن ہمارے لئے تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی دو عیدیں جمع تھیں۔ایک جمعہ کا دن تھا اور دوسرے حج کا دن تھا ( ترمذی کتاب التفسیر القرآن سورة المائدة زیر آیت الیوم اکملت لکم۔۔۔) اسی طرح حضرت عباسؓ کے متعلق روایت آتی ہے کہ اُن سے بھی کسی یہودی نے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر اُترتی تو ہم اُس روز عید مناتے۔حضرت ابن عباسؓ نے بھی اُس کو یہی جواب دیا کہ ہمارے لئے تو اس دن دو عیدیں جمع تھیں۔(ترمذی کتاب التفسیر زیر آیت الیوم اکملت لکم دینکم۔۔۔۔) غرض اسلامی تعلیم کی جامعیت کو دیکھ کر بھی اُن کے دل بغض و حسد کی آ گ سے جل جاتے اور وہ سوائے آہیں بھرنے اور حسرت و اندوہ کا شکار ہونے کے اور کوئی راہ نہ پاتے۔یہی آگ اس زمانہ کے مخالفیں اسلام کو بھی جلاتی رہتی ہے۔آج بھی ایک عیسائی کو اگر کوئی یہودی کہہ دے کہ کیا تیرا خدا وہی ہے جس کو ہم نے کانٹوں کا تاج پہنا یا اور اُسے ذلت کے ساتھ صلیب پر لٹکایا تو تم خود ہی اندازہ لگا ئو کہ اس کے دل میں کس قدر جلن پیدا ہو گی اور وہ کیسے دکھ اور عذاب میں گرفتار ہو جائےگا۔اسی طرح جب بُت پرستوں پر اُن کے بتوں کی بے چارگی ظاہر ہوتی ہے تو وہ اپنے آپ پر لعنتیں ڈالتے ہیں کہ ہم اشرف المخلوق ہو کر بے جان بتوں کے آگے سر جھکا رہے ہیں۔اسی طرح ایک مسلمان جب قرآن کریم پڑھتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُن پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے کلام سے فیضیاب فرماتا ہے تو اس کا دل اس خوشی سے اچھلنے لگتا ہے کہ اسلام پر چلنے سے میرا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائےگا۔مگر ویدوں کا ماننے والا جب وید پڑھتا ہے اور اُسے معلوم ہوتا ہے کہ میرا خدا اب مجھ سے ہم کلام نہیں ہو سکتا تو اس کا دل اس صدمہ سے کڑھنے لگتا ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ وہ خدا جو وید کے رشیوںسے کلام کیا کرتا تھا اب مجھ سے کیوں کلام نہیں کرتا۔کیا میں اس کا سوتیلا بیٹا ہوں کہ وہ رشیوں کے ساتھ تو بولا مگر میرے ساتھ نہیں بولتا۔اسی طرح عیسائیوں میں کفارہ اور آریوں میں نیوگ کا مسئلہ بھی ایسے ہی مسائل میں سے ہیں جن پر بحث کے دوران میں وہ خود اپنے دلوں میں ایک ندامت اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور خواہ وہ زبان سے اقرار کریں یا نہ کریں اُن کے دل اسلامی تعلیم کی بر تری کو تسلیم کرتے ہیں۔قرآن کریم نے ان کی انہی دلی کیفیات کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ( الحجر :۳) یعنی بہت دفعہ کفار بھی بڑی حسرت کے ساتھ کہا کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی ان مسائل کو ماننے والے ہوتے اور انہیں اس شرمندگی سے