تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 63
زبانوں کو دانتوں تلے دبا کر بیٹھ گئے۔اور اُن کے لبوں سے آہ بھی نہیں نکلتی تھی۔کیونکہ اُن کی قوم کا یہ فیصلہ تھا کہ آج رونا نہیں تاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی خوش نہ ہوں۔اور وہ یہ نہ کہیں کہ دیکھا ہم نے مکہ والوں کو کیسی شکست دی۔مگر دل تو جل رہے تھے سینوں میں سے شعلے تو نکل رہے تھے۔جگر تو ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے تھے۔وہ دروازے بند کر کے تاریک گوشوں میں بیٹھتے اور دبی ہوئی آوازوں کے ساتھ روتے تا کسی کو یہ پتہ نہ لگے کہ وہ رو رہا ہے۔مگر یہ رونا اُن کی تسلی کا موجب نہیں تھا۔کیونکہ انسان غم کے وقت دوسرے سے تسلی چاہتا ہے۔بیوی چاہتی ہے کہ خاوند میرے دکھ پر افسوس کرے۔باپ چاہتا ہے کہ بیٹا میرے غم میں حصہ لے اور بیٹا چاہتا ہے کہ باپ میرے غم میں حصہ لے۔اسی طرح ہمسایہ چاہتا ہے کہ ہمسایہ والے میرا غم بٹائیں اور اگر کوئی ایسا ماتم ہو جائے جس کا اثر سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں پر ہو تو اُس وقت سب لوگ چاہتے ہیںکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کریں اور اس طرح اپنے دکھ درد کو کم کریں۔پس تنہائی کے گوشوں میں ان کا بیٹھ کر رونا اُن کی تسلی کا موجب نہیں تھا۔مہینہ گذر گیا اور برابر یہ حکم نافذ رہا۔اس عرصہ میں وہ آگ جو انہوں نے اپنے سینوں میں دبا رکھی تھی سلگتی رہی۔آخر مہینہ کے بعد ایک دن ایک مسافر وہاں سے گذرا۔اُس کی ایک اونٹنی تھی جو راہ میں ہی مر گئی وہ اُس اونٹنی کے غم میں چیخیں مار مار کر روتا جا رہا تھا۔اور کہتا جا رہا تھا کہ ہائے میری اونٹنی مر گئی۔ہائے میری اونٹنی مر گئی۔تب مکہ کا ایک بوڑھا شخص جو اپنے مکان کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔اُس نے اپنے مکان کے دروازے کھول دئے اور بازار میں آکر اُس نے زور زور سے پیٹنا اور چلا چلا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس شخص کو اپنی اونٹنی پر رونے کی تو اجازت ہے مگر میرے دونوجوان بیٹے مارے گئے اور مجھے اُن پر رونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یہ ایک نعرہ تھا جو اُس نے لگایا اور جس نے مکہ میں ایک شعلہ کا کام دیا۔اس کے بعد نہ کسی کو قانون کا خیال رہا۔نہ قوم اور برادر ی سے اخراج کی دھمکی کا خیال رہا۔معًا مکہ کے گھروں کے تمام دروازے کھل گئے۔اور چوکوں اور بازاروں میں عورتیں اور بچے پیٹنے لگ گئے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر رویا عاتکة بنت عبد المطلب زیر عنوان نواح قریش علٰی قتلاھم)۔یہ کتنی بڑی آگ تھی جس نے محمد رسول اللہ ْصلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کو اپنی لپٹ میں لے لیا اور اُس نے اُن کی تمام شوکت اور رعب اور دبدبہ کو خاک میں ملا دیا۔پھر یہ آگ خدا تعالیٰ نے کفارکے لئے اس طرح بھی تیار کی کہ اُس نے اسلام کو ایک کامل اور جامع تعلیم دے کر بھیجا جس سے کفار بالکل محروم تھے۔وہ جب اسلام کا اپنے مذاہب سے مقابلہ کرتے تو اُن کے دل جلتے۔اور وہ کہتے کہ ہمارے مذہب میں کیا رکھا ہے۔کاش یہی باتیں ہمارے مذہب میں بھی ہوتیں اور ہم بھی فخر سے اپنی گردن